Showing posts with label اسلم راہی. Show all posts
Showing posts with label اسلم راہی. Show all posts

Wednesday, 21 December 2016

یہ عجب لوگ ہیں کیا ہم سے بھلا چاہتے ہیں

یہ عجب لوگ ہیں کیا ہم سے بھلا چاہتے ہیں
خون تو چوس چکے اور یہ کیا چاہتے ہیں
یہ جو آۓ ہیں عیادت کو، صِلہ چاہتے ہیں
مرنے والے سے یہ جینے کی دعا چاہتے ہیں
ہم سے کیا پوچھ رہے ہو کہ وہ سورج ہے کہاں
ان سے پوچھو کہ جو ظلمت سے ضیا چاہتے ہیں

گماں یقیں کو یقیں کو گماں نہیں کہتے

گماں یقیں کو، یقیں کو گماں نہیں کہتے
ہم اہلِ دل ہیں، کوئی داستاں نہیں کہتے
یہ کارِ خیر سمجھ کر دِیے جلاتے ہیں
سخن طراز اسے کارِ زیاں نہیں کہتے
جو ظلمتوں میں سرِ بام جگمگائیں، انہیں
کہو چراغ، اگر کہکشاں نہیں کہتے

عمر بھر میں نے یہی ایک ریاضت کی ہے

عمر بھر میں نے یہی ایک ریاضت کی ہے
عشق پھولوں سے تو کانٹوں سے محبت کی ہے
میں نے تو صرف پروۓ ہیں ستارے موتی
جھیل میں جو بھی کرن ہے تِری صورت کی ہے
پانچ دریاؤں کے چھڑکاؤ سے بجھ سکتی نہیں
دل کے جنگل میں لگی آگ جو شدت کی ہے

دن غضب ہے رات کا ہم کیا کریں

دن غضب ہے، رات کا ہم کیا کریں
سختئ حالات کا ہم کیا کریں
اس اذیت سے گزرنا تھا ہمیں
ہونے والی بات کا ہم کیا کریں
اتنے خائف ہیں کہ گھر میں چھپ گئے
اور اب خدشات کا ہم کیا کریں

راہ دشوار ہے چلنا مشکل

راہ دشوار ہے، چلنا مشکل
شہر میں جیسے نکلنا مشکل
وہ دِیا ہوں کہ سرِ طاقِ حیات
گاہے بجھنا، گہے جلنا مشکل
دھڑکنیں ہیں تری یادوں سے ماں
یک نفس ورنہ، سنبھلنا مشکل

Wednesday, 20 January 2016

ماں کے قدموں سے جو لپٹی وہی جنت اچھی

کیا بھلا اس کے مقابل کوئی نعمت اچھی
ماں کے قدموں سے جو لپٹی وہی جنت اچھی
حج کے طالب ہو تو دیکھا کرو ماں کا چہرہ
اس سے ہو جاتی ہے کعبہ کی زیارت اچھی
میرے بچے بھی مجھے اچھی طرح برتیں گے
میں نے کی ہو گی اگر ماں! تِری خدمت اچھی

درد محبت کیا ہوتا ہے تم کیا جانو

دردِ محبت کیا ہوتا ہے تم کیا جانو
جذبۂ حلفت کیا ہوتا ہے تم کیا جانو
یہ گھر بار لوٹنے والے بتلائیں گے
شوق شہادت کیا ہوتا ہے تم کیا جانو
کاش کہ تم ہوتے اس کے انجام سے واقف
نشۂ شہرت کیا ہوتا ہے ۔۔۔ تم کیا جانو

دل یگانہ ہے تو دلدار نے بخشا مجھ کو

دل یگانہ ہے تو دلدار نے بخشا مجھ کو
یہ صلہ دل سے مِرے یار نے بخشا مجھ کو
وقتِ جلوۂ نظارہ ۔۔ کہاں تھی مجھ میں
حوصلہ نرگسِ بیمار نے بخشا مجھ کو
عمر بھر  بادہ گساری کے بھرم کی خاطر
جام اک ساقیٔ پندار نے بخشا مجھ کو

خون تھوکا شب فرقت میں بسر ہونے تک

خون تھوکا شبِ فرقت میں بسر ہونے تک
کیا بتاؤں کہ جو بِیتی ہے سحر ہونے تک
کہکشاں کی ہیں تِری یاد میں آنکھیں ہر شب
اور کیا چاہیۓ ۔۔ اب خون جگر ہونے تک
کوئی مہتاب جو چمکا بھی تو بس یوں چمکا
بجھ گیا ۔۔۔ باعثِ التفاتِ نظر ہونے تک

بندھے ہوئے ہاتھوں سے قفس کھول رہا ہوں

بندھے ہوئے ہاتھوں سے قفس کھول رہا ہوں
اڑنے کے لیے آج بھی پر تول رہا ہوں
بے باک سخنور ہوں زباں کھول رہا ہوں
کچھ بولنا مشکل ہے، مگر بول رہا ہوں
تجھ سے مِرے غمخوار نہ کہنا پڑے مجھ کو
میں اشک ہوں مٹی میں کہیں رول رہا ہوں