Wednesday, 21 December 2016

یہ عجب لوگ ہیں کیا ہم سے بھلا چاہتے ہیں

یہ عجب لوگ ہیں کیا ہم سے بھلا چاہتے ہیں
خون تو چوس چکے اور یہ کیا چاہتے ہیں
یہ جو آۓ ہیں عیادت کو، صِلہ چاہتے ہیں
مرنے والے سے یہ جینے کی دعا چاہتے ہیں
ہم سے کیا پوچھ رہے ہو کہ وہ سورج ہے کہاں
ان سے پوچھو کہ جو ظلمت سے ضیا چاہتے ہیں
یہ جو کہتے ہیں کہ بہتر ہیں ہمارے حالات
شاید اب اس سے بڑی لوگ سزا چاہتے ہیں
راس آیا نہ ہمیں شہر مسیحاؤں کا
زہر دیتا ہے وہی جس سے دوا چاہتے ہیں
شہ سواروں سے چلو پوچھ لیں اسلم راہیؔ
ہم تو پیدل کے مسافر ہیں وہ کیا چاہتے ہیں

اسلم راہی

No comments:

Post a Comment