یہ عجب لوگ ہیں کیا ہم سے بھلا چاہتے ہیں
خون تو چوس چکے اور یہ کیا چاہتے ہیں
یہ جو آۓ ہیں عیادت کو، صِلہ چاہتے ہیں
مرنے والے سے یہ جینے کی دعا چاہتے ہیں
ہم سے کیا پوچھ رہے ہو کہ وہ سورج ہے کہاں
یہ جو کہتے ہیں کہ بہتر ہیں ہمارے حالات
شاید اب اس سے بڑی لوگ سزا چاہتے ہیں
راس آیا نہ ہمیں شہر مسیحاؤں کا
زہر دیتا ہے وہی جس سے دوا چاہتے ہیں
شہ سواروں سے چلو پوچھ لیں اسلم راہیؔ
ہم تو پیدل کے مسافر ہیں وہ کیا چاہتے ہیں
اسلم راہی
No comments:
Post a Comment