اس بار ہوا کُن کا اثر اور طرح کا
اس بار ہے امکانِ بشر اور طرح کا
اس بار مدینے ہی میں در آیا تھا کوفہ
اس بار کیا ہم نے سفر اور طرح کا
اس بار نہ اسباب، نہ چادر پہ نظر تھی
اس بار کوئی عیب کوئی عیب نہیں تھا
اس بار کِیا ہم نے ہنر اور طرح کا
اس بار کوئی خیر کا طالب ہی نہیں تھا
اس بار تھا اندیشۂ شر اور طرح کا
اس بار چلی بادِ سموم اور طرح کی
اس بار کھِلا ہے گلِ تر اور طرح کا
اس بار تو جبریل معانی کو مِلا اِذن
اس جلا لفظ کا پَر اور طرح کا
تسنیم عابدی
No comments:
Post a Comment