راز کا بزم میں چرچا کبھی ہونے نہ دیا
ہم نے اپنے کو تماشا کبھی ہونے نہ دیا
ہم کو اِس گردشِ دوراں نے کہیں کا نہ رکھا
پھر بھی لہجے کو شکستہ کبھی ہونے نہ دیا
میکدے میں بڑے کم ظرف تھے پینے والے
دل میں اک درد کا طوفان چھپائے رکھا
آنکھ سے راز کو افشا کبھی ہونے نہ دیا
روز جلنا ہے اِسے روز جلانا ہے اِسے
آتشِ عشق کو ٹھنڈا کبھی ہونے نہ دیا
عمر رشتوں کے تقاضے ہی نبھا دے تُو ہی
زندگی نے مجھے اپنا کبھی ہونے نہ دیا
کتنا آسان تھا اپنے سے جدا ہو جانا
عشق میں ذہن کا سودا کبھی ہونے نہ دیا
سب سے محفوظ مقامِ غمِ تنہائی ہے
فکرِ دنیا نے اکیلا کبھی ہونے نہ دیا
تسنیم عابدی
No comments:
Post a Comment