Wednesday, 21 December 2016

راز کا بزم میں چرچا کبھی ہونے نہ دیا

راز کا بزم میں چرچا کبھی ہونے نہ دیا
ہم نے اپنے کو تماشا کبھی ہونے نہ دیا
ہم کو اِس گردشِ دوراں نے کہیں کا نہ رکھا
پھر بھی لہجے کو شکستہ کبھی ہونے نہ دیا
میکدے میں بڑے کم ظرف تھے پینے والے
آنکھ کو ساغر و مِینا کبھی ہونے نہ دیا
دل میں اک درد کا طوفان چھپائے رکھا
آنکھ سے راز کو افشا کبھی ہونے نہ دیا
روز جلنا ہے اِسے روز جلانا ہے اِسے
آتشِ عشق کو ٹھنڈا کبھی ہونے نہ دیا
عمر رشتوں کے تقاضے ہی نبھا دے تُو ہی
زندگی نے مجھے اپنا کبھی ہونے نہ دیا
کتنا آسان تھا اپنے سے جدا ہو جانا
عشق میں ذہن کا سودا کبھی ہونے نہ دیا
سب سے محفوظ مقامِ غمِ تنہائی ہے
فکرِ دنیا نے اکیلا کبھی ہونے نہ دیا

تسنیم عابدی

No comments:

Post a Comment