Showing posts with label مینو بخشی. Show all posts
Showing posts with label مینو بخشی. Show all posts

Sunday, 29 November 2020

بت کی مانند نہ اپنے کو بنائے رکھنا

 بت کی مانند نہ اپنے کو بنائے رکھنا

جس جگہ رہنا وہاں دھوم مچائے رکھنا

خود کو دریا میں نہ قطروں سا ملائے رکھنا

منفرد ہونے کا احساس دلائے رکھنا

کام فرزانۂ دنیا کا نہیں اے ناصح

پرچمِ عشق زمانے میں اٹھائے رکھنا

Saturday, 28 November 2020

اٹھا شعلہ سا قلب ناتواں سے

 اٹھا شعلہ سا قلبِ ناتواں سے

ہوا آئی کبھی جو شہرِ جاں سے

ہماری سمت بھی چشمِ عنایت

تری خاطر بنے ہیں نیم جاں سے

اداسی کس لیے پھیلی ہوئی ہے

اٹھا ہے کون آخر درمیاں سے

Wednesday, 23 September 2020

آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے

 آج مضطر ہے مِری جان خدا خیر کرے

دل میں ہے درد کا طوفان خدا خیر کرے

رات کو نیند نہیں صبح کو آرام نہیں

ان کے آنے کا ہے امکان خدا خیر کرے

وہ ملاتے ہیں نظر غیر کی صورت ہم سے

یہ تو ہے موت کا سامان خدا خیر کرے

Tuesday, 22 September 2020

تیرا ارماں تری حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں

 تیرا ارماں تِری حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں

دل میں اب تیری محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

زندگی مجھ کو کہاں لے کے چلی آئی ہے

دور تک سایۂ ظلمت کے سوا کچھ بھی نہیں

ہر طرف پھول حقیقت کے کھلے ہیں، لیکن

آنکھ میں خواب حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں

Sunday, 20 September 2020

بیٹھے بیٹھے جو طبیعت مری گھبرائی ہے

بیٹھے بیٹھے جو طبیعت مِری گھبرائی ہے

اور شدت سے مجھے یاد تِری آئی ہے

اس سے بچھڑوں‌ گی تو زندہ نہیں رہ پاؤں گی

میری مونس مِری ہم راز یہ تنہائی ہے

جستجو اب ہے مسرت کی نہ تو غم کی تلاش

بے حسی مجھ کو کہاں لے کے چلی آئی ہے

Saturday, 19 September 2020

رہ عشق و وفا ہے اور میں ہوں

 رہ عشق و وفا ہے اور میں ہوں

یہ تیرا نقش پا ہے اور میں ہوں

نگاہوں میں ہے زنجیر محبت

تِری زلف دوتا ہے اور میں ہوں

شب آخر فضائے دل میں پھیلی

خموشی کی ردا ہے اور میں ہوں

رات خود پر رو رہی ہے

 رات خود پر رو رہی ہے

صبح شاید ہو رہی ہے

تو اسے آ کر جگا جا

حسرت دل سو رہی ہے

کس کی آمد ہے جو کب سے

چاندنی گھر دھو رہی ہے

Friday, 18 September 2020

ہوا دل کا حال ابتر تجھے یاد کرتے کرتے

 ہوا دل کا حال ابتر تجھے یاد کرتے کرتے

مِری جاں نکل نہ جائے کہیں آہ بھرتے بھرتے

مِری آرزوئے دل کو نئی زندگی ملی ہے

کہ ابھی ابھی بچے ہیں مِرے خواب مرتے مرتے

تجھے بھولنے کی خاطر بھی ہے ایک عمر لازم

کٹی ایک عمر میری تجھے یاد کرتے کرتے

کچھ تو خودی کا رنگ ہے کچھ بے خودی کا رنگ

 کچھ تو خودی کا رنگ ہے کچھ بیخودی کا رنگ

دونوں کا امتزاج ہے یہ زندگی کا رنگ

آہیں بھرے گا کب کوئی پھولوں کو دیکھ کر 

آئے گا کب کسی میں بھلا دلبری کا رنگ 

اس میں ہے رنگ تیرے رخ بے مثال کا 

سب سے جدا ہو کیوں نہ مِری شاعری کا رنگ