بت کی مانند نہ اپنے کو بنائے رکھنا
جس جگہ رہنا وہاں دھوم مچائے رکھنا
خود کو دریا میں نہ قطروں سا ملائے رکھنا
منفرد ہونے کا احساس دلائے رکھنا
کام فرزانۂ دنیا کا نہیں اے ناصح
پرچمِ عشق زمانے میں اٹھائے رکھنا
بت کی مانند نہ اپنے کو بنائے رکھنا
جس جگہ رہنا وہاں دھوم مچائے رکھنا
خود کو دریا میں نہ قطروں سا ملائے رکھنا
منفرد ہونے کا احساس دلائے رکھنا
کام فرزانۂ دنیا کا نہیں اے ناصح
پرچمِ عشق زمانے میں اٹھائے رکھنا
اٹھا شعلہ سا قلبِ ناتواں سے
ہوا آئی کبھی جو شہرِ جاں سے
ہماری سمت بھی چشمِ عنایت
تری خاطر بنے ہیں نیم جاں سے
اداسی کس لیے پھیلی ہوئی ہے
اٹھا ہے کون آخر درمیاں سے
آج مضطر ہے مِری جان خدا خیر کرے
دل میں ہے درد کا طوفان خدا خیر کرے
رات کو نیند نہیں صبح کو آرام نہیں
ان کے آنے کا ہے امکان خدا خیر کرے
وہ ملاتے ہیں نظر غیر کی صورت ہم سے
یہ تو ہے موت کا سامان خدا خیر کرے
تیرا ارماں تِری حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں
دل میں اب تیری محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
زندگی مجھ کو کہاں لے کے چلی آئی ہے
دور تک سایۂ ظلمت کے سوا کچھ بھی نہیں
ہر طرف پھول حقیقت کے کھلے ہیں، لیکن
آنکھ میں خواب حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں
بیٹھے بیٹھے جو طبیعت مِری گھبرائی ہے
اور شدت سے مجھے یاد تِری آئی ہے
اس سے بچھڑوں گی تو زندہ نہیں رہ پاؤں گی
میری مونس مِری ہم راز یہ تنہائی ہے
جستجو اب ہے مسرت کی نہ تو غم کی تلاش
بے حسی مجھ کو کہاں لے کے چلی آئی ہے
رہ عشق و وفا ہے اور میں ہوں
یہ تیرا نقش پا ہے اور میں ہوں
نگاہوں میں ہے زنجیر محبت
تِری زلف دوتا ہے اور میں ہوں
شب آخر فضائے دل میں پھیلی
خموشی کی ردا ہے اور میں ہوں
رات خود پر رو رہی ہے
صبح شاید ہو رہی ہے
تو اسے آ کر جگا جا
حسرت دل سو رہی ہے
کس کی آمد ہے جو کب سے
چاندنی گھر دھو رہی ہے
ہوا دل کا حال ابتر تجھے یاد کرتے کرتے
مِری جاں نکل نہ جائے کہیں آہ بھرتے بھرتے
مِری آرزوئے دل کو نئی زندگی ملی ہے
کہ ابھی ابھی بچے ہیں مِرے خواب مرتے مرتے
تجھے بھولنے کی خاطر بھی ہے ایک عمر لازم
کٹی ایک عمر میری تجھے یاد کرتے کرتے
کچھ تو خودی کا رنگ ہے کچھ بیخودی کا رنگ
دونوں کا امتزاج ہے یہ زندگی کا رنگ
آہیں بھرے گا کب کوئی پھولوں کو دیکھ کر
آئے گا کب کسی میں بھلا دلبری کا رنگ
اس میں ہے رنگ تیرے رخ بے مثال کا
سب سے جدا ہو کیوں نہ مِری شاعری کا رنگ