Saturday, 19 September 2020

رات خود پر رو رہی ہے

 رات خود پر رو رہی ہے

صبح شاید ہو رہی ہے

تو اسے آ کر جگا جا

حسرت دل سو رہی ہے

کس کی آمد ہے جو کب سے

چاندنی گھر دھو رہی ہے

تخم تنہائی محبت

کشت دل میں بو رہی ہے

بے سبب کب تھی اداسی

وجہ بھی کچھ تو رہی ہے


مینو بخشی

No comments:

Post a Comment