خود مزے دار طبیعت ہے تو ساماں کیسا
زخم دل آپ ہیں شورش پہ نمکداں کیسا
ہاتھ وحشت میں نہ پونچھے تو گریباں کیسا
خار صحرا سے نہ الجھے تو وہ داماں کیسا
کوچۂ یار کو دعویٰ ہے کہ جنت میں ہوں
خلد کہتے ہیں کسے روضۂ رضواں کیسا
خود مزے دار طبیعت ہے تو ساماں کیسا
زخم دل آپ ہیں شورش پہ نمکداں کیسا
ہاتھ وحشت میں نہ پونچھے تو گریباں کیسا
خار صحرا سے نہ الجھے تو وہ داماں کیسا
کوچۂ یار کو دعویٰ ہے کہ جنت میں ہوں
خلد کہتے ہیں کسے روضۂ رضواں کیسا
ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہو گا
بشر ہیں ہم بھی صاحب دیکھیے ناحق کا شر ہو گا
نہ مُڑ کر تُو نے دیکھا اور نہ میں تڑپا نہ خنجر
نہ دل ہووے گا تیرا سا نہ میرا سا جگر ہو گا
میں کچھ مجنوں نہیں ہوں جو کہ صحرا کو چلا جاؤں
تمہارے در سے سر پھوڑوں گا سودا بھی اگر ہو گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مداح ہوں میں دل سے محمدﷺ کی آلؑ کا
مشتاق ہوں وصیٔ نبیﷺ کے جمال کا
خواہاں گُہر کا ہوں نہ میں طالب ہوں لال کا
مُشتاق ہوں تمہارے دہن کے اُگال کا
دیکھو تو ایک جا پہ ٹھہرتی نہیں نظر
لپکا پڑا ہے آنکھ کو کیا دیکھ بھال کا
مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط
میری شکایتوں سے بھرا ہے تمام خط
گھبرا نہ اس قدر دل بے تاب صبر کر
آتا ہے کوئی روز میں اب صبح و شام خط
لکھا ہوا ہے خاص تمہارے ہی ہاتھ کا
پہچانتا ہے خوب تمہارا غلام خط
مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہے
نمک زخم جگر پر اور ڈالے جس کا جی چاہے
جگر موجود ہے تو وہ بنا لے جس کا جی چاہے
گَلا حاضر ہے خنجر آزما لے جس کا جی چاہے
اگر ہے حُسن کا دعویٰ مہ و خورشید دونوں میں
کفِ پا سے تمہارے مُنہ ملا لے جس کا جی چاہے
چاہت غمزے جتا رہی ہے
وحشت صحرا دکھا رہی ہے
غنچوں کا جگر ہلا رہی ہے
بلبل کیا گل کھلا رہی ہے
یوسف کا پتا لگا رہی ہے
خوشبو کنعاں میں آ رہی ہے
آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہے
کالی جادو جگا رہی ہے
زنجیر جو کھڑکھڑا رہی ہے
وحشت کیا غل مچا رہی ہے
لیلیٰ خاکہ اڑا رہی ہے
مجنوں کو ہوا بتا رہی ہے
جا لڑی یار سے ہماری آنکھ
دیکھو کر بیٹھی فوجداری آنکھ
شوخیاں بھول جائے آہوئے چیں
دیکھ پائے اگر تمہاری آنکھ
لاکھ انکار مے کشی سے کرو
کہیں چھپتی بھی ہے خماری آنکھ
ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیں
تمہاری تیر نگہ کے شکار ہم بھی ہیں
ازل سے داخل فرد شمار ہم بھی ہیں
تمہارے چاہنے والوں میں یار ہم بھی ہیں
ہمیشہ ہم سے کدورت رہی حسینوں کو
نہ دل سے نکلے کبھی وہ غبار ہم بھی ہیں
وہ کہتے ہیں اٹھو سحر ہو گئی
اذاں ہو گئی، توپ سر ہو گئی
گلے سے ملو اب تو بہر خدا
تڑپتے مجھے رات بھر ہو گئی
الٰہی ہوا جذب الفت کو کیا
مِری آہ کیوں بے اثر ہو گئی
جیتے جی کے آشنا ہیں پھر کسی کا کون ہے
نام کے اپنے ہوا کرتے ہیں، اپنا کون ہے
جان جاں تیرے سوا رشکِ مسیحا کون ہے
مار کر ٹھوکر جلا دے مجھ کو ایسا کون ہے
یہ سیہ خیمہ ہے کس کا اس میں لیلیٰ کون ہے
چنبر افلاک کے پردے میں بیٹھا کون ہے
نماز کیسی کہاں کا روزہ؟؟ ابھی میں شغلِ شراب میں ہوں
خدا کی یاد آئے کس طرح سے بتوں کے قہر و عتاب میں ہوں
شراب کا شغل ہو رہا ہے،۔ بغل میں پاتا ہوں میں کسی کو
میں جاگتا ہوں کہ سو رہا ہوں خیال میں ہوں کہ خواب میں ہوں
نہ چھیڑ اس وقت مجھ کو زاہد! نہیں یہ موقع ہے گفتگو کا
سوار جاتا ہے وہ شرابی میں حاضر اس کی رکاب میں ہوں
ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہو گا
بشر ہیں ہم بھی صاحب دیکھیے ناحق کا شر ہو گا
نہ مُڑ کر تُو نے دیکھا اور نہ میں تڑپا، نہ خنجر
نہ دل ہووے گا تیرا سا،۔ نہ میرا سا جگر ہو گا
میں کچھ مجنوں نہیں ہوں جو کہ صحرا کو چلا جاؤں
تمہارے در سے سر پھوڑوں گا، سودا بھی اگر ہو گا