Showing posts with label آغا اکبرآبادی. Show all posts
Showing posts with label آغا اکبرآبادی. Show all posts

Tuesday, 2 April 2024

خود مزے دار طبیعت ہے تو ساماں کیسا

 خود مزے دار طبیعت ہے تو ساماں کیسا

زخم دل آپ ہیں شورش پہ نمکداں کیسا

ہاتھ وحشت میں نہ پونچھے تو گریباں کیسا

خار صحرا سے نہ الجھے تو وہ داماں کیسا

کوچۂ یار کو دعویٰ ہے کہ جنت میں ہوں

خلد کہتے ہیں کسے روضۂ رضواں کیسا

Friday, 15 December 2023

ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہو گا

 ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہو گا

بشر ہیں ہم بھی صاحب دیکھیے ناحق کا شر ہو گا

نہ مُڑ کر تُو نے دیکھا اور نہ میں تڑپا نہ خنجر

نہ دل ہووے گا تیرا سا نہ میرا سا جگر ہو گا

میں کچھ مجنوں نہیں ہوں جو کہ صحرا کو چلا جاؤں

تمہارے در سے سر پھوڑوں گا سودا بھی اگر ہو گا

Wednesday, 13 December 2023

مداح ہوں میں دل سے محمد کی آل کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مداح ہوں میں دل سے محمدﷺ کی آلؑ کا

مشتاق ہوں وصیٔ نبیﷺ کے جمال کا

خواہاں گُہر کا ہوں نہ میں طالب ہوں لال کا

مُشتاق ہوں تمہارے دہن کے اُگال کا

دیکھو تو ایک جا پہ ٹھہرتی نہیں نظر

لپکا پڑا ہے آنکھ کو کیا دیکھ بھال کا

Friday, 21 October 2022

مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط

 مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خط 

میری شکایتوں سے بھرا ہے تمام خط

گھبرا نہ اس قدر دل بے تاب صبر کر 

آتا ہے کوئی روز میں اب صبح و شام خط

لکھا ہوا ہے خاص تمہارے ہی ہاتھ کا 

پہچانتا ہے خوب تمہارا غلام خط

Saturday, 1 October 2022

مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہے

 مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہے

نمک زخم جگر پر اور ڈالے جس کا جی چاہے

جگر موجود ہے تو وہ بنا لے جس کا جی چاہے

گَلا حاضر ہے خنجر آزما لے جس کا جی چاہے

اگر ہے حُسن کا دعویٰ مہ و خورشید دونوں میں

کفِ پا سے تمہارے مُنہ ملا لے جس کا جی چاہے

Thursday, 17 March 2022

چاہت غمزے جتا رہی ہے

 چاہت غمزے جتا رہی ہے

وحشت صحرا دکھا رہی ہے

غنچوں کا جگر ہلا رہی ہے

بلبل کیا گل کھلا رہی ہے

یوسف کا پتا لگا رہی ہے

خوشبو کنعاں میں آ رہی ہے

Sunday, 13 February 2022

آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہے

 آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہے

کالی جادو جگا رہی ہے

زنجیر جو کھڑکھڑا رہی ہے

وحشت کیا غل مچا رہی ہے

لیلیٰ خاکہ اڑا رہی ہے

مجنوں کو ہوا بتا رہی ہے

Monday, 24 January 2022

جا لڑی یار سے ہماری آنکھ

 جا لڑی یار سے ہماری آنکھ

دیکھو کر بیٹھی فوجداری آنکھ

شوخیاں بھول جائے آہوئے چیں

دیکھ پائے اگر تمہاری آنکھ

لاکھ انکار مے کشی سے کرو

کہیں چھپتی بھی ہے خماری آنکھ

Wednesday, 19 January 2022

ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیں

 ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیں

تمہاری تیر نگہ کے شکار ہم بھی ہیں

ازل سے داخل فرد شمار ہم بھی ہیں

تمہارے چاہنے والوں میں یار ہم بھی ہیں

ہمیشہ ہم سے کدورت رہی حسینوں کو

نہ دل سے نکلے کبھی وہ غبار ہم بھی ہیں

Tuesday, 18 January 2022

وہ کہتے ہیں اٹھو سحر ہو گئی

 وہ کہتے ہیں اٹھو سحر ہو گئی

اذاں ہو گئی، توپ سر ہو گئی

گلے سے ملو اب تو بہر خدا

تڑپتے مجھے رات بھر ہو گئی

الٰہی ہوا جذب الفت کو کیا

مِری آہ کیوں بے اثر ہو گئی

Sunday, 16 January 2022

جیتے جی کے آشنا ہیں پھر کسی کا کون ہے

 جیتے جی کے آشنا ہیں پھر کسی کا کون ہے

نام کے اپنے ہوا کرتے ہیں، اپنا کون ہے

جان جاں تیرے سوا رشکِ مسیحا کون ہے

مار کر ٹھوکر جلا دے مجھ کو ایسا کون ہے

یہ سیہ خیمہ ہے کس کا اس میں لیلیٰ کون ہے

چنبر افلاک کے پردے میں بیٹھا کون ہے

Thursday, 25 February 2021

نماز کیسی کہاں کا روزہ ابھی میں شغل شراب میں ہوں

نماز کیسی کہاں کا روزہ؟؟ ابھی میں شغلِ شراب میں ہوں

خدا کی یاد آئے کس طرح سے بتوں کے قہر و عتاب میں ہوں

شراب کا شغل ہو رہا ہے،۔ بغل میں پاتا ہوں میں کسی کو

میں جاگتا ہوں کہ سو رہا ہوں خیال میں ہوں کہ خواب میں ہوں

نہ چھیڑ اس وقت مجھ کو زاہد! نہیں یہ موقع ہے گفتگو کا

سوار جاتا ہے وہ شرابی میں حاضر اس کی رکاب میں ہوں

Wednesday, 2 December 2020

ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہو گا

ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہو گا

بشر ہیں ہم بھی صاحب دیکھیے ناحق کا شر ہو گا

نہ مُڑ کر تُو نے دیکھا اور نہ میں تڑپا، نہ خنجر

نہ دل ہووے گا تیرا سا،۔ نہ میرا سا جگر ہو گا

میں کچھ مجنوں نہیں ہوں جو کہ صحرا کو چلا جاؤں

تمہارے در سے سر پھوڑوں گا، سودا بھی اگر ہو گا