Showing posts with label اکبر داناپوری. Show all posts
Showing posts with label اکبر داناپوری. Show all posts

Monday, 29 July 2024

مجھے بہشت سے مطلب نہ خلد سے ہے غرض

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مجھے بہشت سے مطلب نہ خلد سے ہے غرض

مِرا جگر تو مدینے کے ہجر میں ہے فگار

کہاں کا باغ، کہاں کا چمن، کہاں کی سیر

مِری نظر میں تو ہر دم مدینہ کی ہے بہار

وہاں کے خار ہیں حوروں کی گردنوں کے ہار

ہیں آٹھوں باغوں میں فردوس کے وہیں کی بَہار

Wednesday, 5 June 2024

مدینے کی عجب روشن زمیں ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مدینے کی عجب روشن زمیں ہے

رسولؐ اللہ کا جلوہ یہیں ہے

قیامت کا ہمیں کھٹکا نہیں ہے

رسولؐ اپنا شفیع المذنبیں ہے

رسولؐ اللہ کی صورت پہ قرباں

یہی نقشہ تو نقشِ اولیں ہے

Thursday, 30 May 2024

قد موزون حضرت میں ہے جلوہ کس قیامت کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


قدِ موزونِ حضرت میں ہے جلوہ کس قیامت کا

فرشتوں کو یہاں دعویٰ نہیں ہے استقامت کا

ہوا ہے شور عالم میں بپا کس کی ملاحت کا

کہ قصہ بے نمک ہے یوسفِ مصری کی صورت کا

تڑپ جاتا ہے دل پہلو میں یاد آتا ہے جب روضہ

مدینے کی جدائی سامنا ہے مجھ کو آفت کا

Sunday, 26 May 2024

صبا مجھ کو لا دے غبارِ مدینہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل میں ہے کہ مر کر بھی نہ نکلیں گے وہاں سے

اب کے ہمیں تقدیر جو دکھلائے مدینہ

سودا ہو جو سر میں تو مدینے کے سفر کا

ہو عشق تو عشقِ شہِ والائے مدینہ

کعبے کے لیے اور جگہ لاؤں کہاں سے

اس دل میں تو بستی ہے تمنائے مدینہ

Friday, 24 May 2024

وقف در محبوب ہوئی اپنی جبیں آج

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وقفِ درِ محبوبﷺ ہوئی اپنی جبیں آج

ہمسر نہیں میرا کوئی بالائے زمیں آج

لکھنی ہے مجھے منقبتِ سرورِ دیں آج

ہے عرشِ معلیٰ مِرے شعروں کی زمیں آج

کس کے گلِ عارض کی صفت نظم ہوئی ہے

پھولوں سے بسی ہے مرے شعروں کی زمیں آج

Thursday, 23 May 2024

مصحف ناطق رخ پر نور ہے اس ماہ کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مصحفِ ناطق رُخِ پُر نُور ہے اس ماہ کا

ابروئے سلطانِ دیں طغرا ہے بسم اللہ کا

روضۂ اقدس ہے مرجع ہر گدا و شاہ کا

ہے وسیلہ نامِ حضرت سارے خلق اللہ کا

جب جھکی گردن نظر وہ قبۂ سبز آ گیا

قلب میرا بن گیا گنبد تِری درگاہ کا

Wednesday, 22 May 2024

آؤ اے جنتیو گنبد خضریٰ دیکھو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آؤ اے جنتیو! گنبدِ خضریٰ دیکھو

قبلۂ عرش ہے یہ قصرِ معلیٰ ٰدیکھو

آؤ اے خضرؑ! مدینے کا تماشہ دیکھو

سبز پردوں کا مِری آنکھوں سے جلوہ دیکھو

دیکھو وہ سامنے میزاب کے ہے گنبدِ سبز

اہلِ کعبہ! ادھر آؤ مِرا کعبہ دیکھو

Tuesday, 21 May 2024

چراغ دین و دنیا ہے محمد

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 چراغِ دین و دنیا ہے محمدﷺ

فروغِ عرشِ اعلیٰ ہے محمدﷺ

میں ہوں وہ قطرۂ بے مثل و نایاب

کہ جس قطرے کا دریا ہے محمدﷺ

نہ مثل اس کا، نہ اس کا کوئی مانند

خدا ہے ایک، یکتا ہے محمدﷺ

Monday, 26 July 2021

ہم تری راہ میں مٹ جائیں گے سوچا ہے یہی

 ہم تری راہ میں مٹ جائیں گے سوچا ہے یہی

درد مندانِ محبت کا طریقا ہے یہی

آپ ہوں پیش نظر روح جو تن سے نکلے

اے مِری جان مِری آنکھوں کی تمنا ہے یہی

ہو گیا عام محبت کا میری افسانہ

اب تو جس بزم میں جا بیٹھے چرچا ہے یہی