عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مجھے بہشت سے مطلب نہ خلد سے ہے غرض
مِرا جگر تو مدینے کے ہجر میں ہے فگار
کہاں کا باغ، کہاں کا چمن، کہاں کی سیر
مِری نظر میں تو ہر دم مدینہ کی ہے بہار
وہاں کے خار ہیں حوروں کی گردنوں کے ہار
ہیں آٹھوں باغوں میں فردوس کے وہیں کی بَہار