Thursday, 30 July 2026

کون سی منزل ہے جو بے خواب آنکھوں میں نہیں

 کون سی منزل ہے جو بے خواب آنکھوں میں نہیں

ایک سورج ڈھونڈتا ہوں جو کہ سپنوں میں نہیں

دیکھتا رہتا ہوں مٹتے شہر کے نقش و نگار

آنکھ میں وہ صورتیں بھی ہیں کہ گلیوں میں نہیں

موسموں کا رخ ادھر کو ہے ہواؤں کا اِدھر

جنگلوں میں بات کوئی ہے کہ شہروں میں نہیں

پیلی پیلی تتلیاں ہیں اور محرومی کا رقص

کون سا وہ ذائقہ ہو گا کہ پھولوں میں نہیں

یوں تو ہر جانب کھڑے ہیں یہ قطار اندر قطار

ایک ٹھنڈک ہے کہ ان پیڑوں کے سایوں میں نہیں

چاند تاروں کی ضائیں، کہکشاؤں کے ہجوم

کون سا وہ آسماں ہے جو زمینوں میں نہیں


گلزار وفا چودھری

No comments:

Post a Comment