ہر بار صبر و ضبط کو بخشوں زبان کیوں؟
ہر بار لازمی ہے مِرا امتحان یوں؟
میرے سوا ہیں اور بھی کتنے ہی سر بلند
میرے ہی سر پہ بوجھ تِرا آسمان کیوں؟
جل کر تو راکھ ہو چکے اے چشمِ نم، مگر
یاد آ رہے ہیں آج وہ سارے مکان کیوں؟
یہ لازمی نہیں کہ سبھی تیر ہوں خطا
پھینکی ہے اپنے ہاتھ سے تُو نے کمان کیوں؟
ہر شام اب بھی پلکوں پہ جلتے تو ہیں چراغ
پھر صبحِ اعتبار سے دل بد گمان کیوں؟
یعقوب راہی
No comments:
Post a Comment