خلش و سوز دلفگار ہی دی
دل میں شمشیر آبدار ہی دی
بے وفا سے معاملے کے لیے
اک طبیعت وفا شعار ہی دی
کیفیت دل کی بیان کرنے کو
ایک آواز دلفگار ہی دی
خار کو تو زبان گُل بخشی
گُل کو لیکن زبان خار ہی دی
دل شب زندہ دار ہم کو دیا
حُسن کو چشم پُر خمار ہی دی
خُود رقیبوں کے واسطے میں نے
زُلف معشوق کی سنوار ہی دی
کیا نشیب و فراز تھی تنویر
زندگی آپ نے گُزار ہی دی
حبیب تنویر
No comments:
Post a Comment