انسان اپنے نفسِ ستم گر کو مارتا
جس حال میں بھی عمر گزرتی گزارتا
زاہد نے کچھ بھی قدر نہ کی تیرے حُسن کی
حُورانِ خُلد کو تِری صُورت پہ وارتا
اس بُوالہوس کو حُسن و وفا کی تمیز کیا
دُشمن ہمارے سامنے شیخی بگھارتا
توبہ کے دم سے خُلد کی اُمید بڑھ گئی
ورنہ خیالِ یاس گُنہ پر اُبھارتا
سمجھا نہ تھا میں خانۂ دل کو تِرا مقام
دیر و حرم میں کیوں تجھے جا کر پُکارتا
فرہاد! خُودکشی کا محبت میں کام کیا
میدان کا تھا مرد تو ہمت نہ ہارتا
دیکھے ہیں لاکھ بار زمانہ کے انقلاب
راسخ کسی کے سامنے دامن پسارتا
محمد یوسف راسخ
راسخ ابن بیدل
No comments:
Post a Comment