Sunday, 5 July 2026

ادائے رسم محبت خطا سی لگتی ہے

 ادائے رسم محبت خطا سی لگتی ہے

ہمیں تو اپنی وفا بھی سزا سی لگتی ہے

سفر میں دھوپ کا احساس تک نہیں ہوتا

ہمارے سر پہ کسی کی دعا سی لگتی ہے

وہ میری فکر کو چھوتا ہے جب خیالوں میں

ہر ایک لفظ میں بوئے حنا سی لگتی ہے

میں اپنے آپ کو پاتا ہوں روبرو اپنے

تمہاری یاد بھی اب آئینہ سی لگتی ہے

یہ سرخ پھول سے چہرے بھی زرد مائل ہیں

نسیم صبح چمن کچھ خفا سی لگتی ہے

مجھے تلاش ہے اے دوست ایسے لوگوں کی

کہ تلخ بات بھی جن کو دوا سی لگتی ہے

یہ رنج و غم یہ مصائب تری عنایت ہیں

مری فغاں بھی تری ہی عطا سی لگتی ہے

یہ زندگی تو فسادوں کو سونپ دی ہم نے

یہ رسم و راہ عقیدت فنا سی لگتی ہے

غبار چھایا ہے انوار یوں تعصب کا

فضائے دہر کوئی بد دعا سی لگتی ہے


انوار انصاری

No comments:

Post a Comment