Showing posts with label سنقر سامی. Show all posts
Showing posts with label سنقر سامی. Show all posts

Sunday, 21 November 2021

تمہارا غم منایا جا رہا ہے

 تمہارا غم منایا جا رہا ہے

جگر کا خوں جلایا جا رہا ہے

پریشاں ہے امیرِ شہر اب کیوں

اسے شیشہ دکھایا جا رہا ہے

تماشہ خوب ہے دیکھو وہاں پر

طوائف کو ستایا جا رہا ہے

Wednesday, 20 October 2021

خیال شعر کو سادہ بیاں سمجھتا ہے

 خیال شعر کو سادہ بیاں سمجھتا ہے

ہمارے دکھ کو زمانہ کہاں سمجھتا ہے

تِرا خیال ستاتا رہا مجھے شب بھر

تِرا خیال مِرا غم کہاں سمجھتا ہے

اسی لیے تو اسے ﮈر نہیں ہے اے دنیا

فقیر تم کو بُرا امتحاں سمجھتا ہے

Monday, 20 September 2021

گرمئ غم جو ستائے تو گلہ مت کیجئے

 گرمئ غم جو ستائے تو گِلہ مت کیجیۓ

رنج ہمزاد بنائے تو گلہ مت کیجیۓ

اس کو معلوم اندھیرے سے ہے رغبت ہم کو

پھر بھی وہ دِیپ جلائے تو گلہ مت کیجیۓ

جلوۂ طور کسی آنکھ میں آنے سے رہا

وہ اگر رُخ کو چُھپائے تو گلہ مت کیجیۓ

Sunday, 19 September 2021

دل محبت سے ہو گئے خالی

 دل محبت سے ہو گئے خالی

گو کہ نعمت سے ہو گئے خالی

من عداوت سے بھر گئے اتنا

خوب سیرت سے ہو گئے خالی

رنگ ہوتے ہوئے بھی یہ غنچے

اپنی رنگت سے ہو گئے خالی

Friday, 17 September 2021

یہ کون کہتا ہے ہم کو بے در پڑے ہوئے ہیں

 یہ کون کہتا ہے ہم کو؛ بے در پڑے ہوئے ہیں

فقیر بن کے تِرے سرِ در پڑے ہوئے ہیں

ہماری نیندیں چلی گئی ہے کہیں بہت دور

ہمارے اوپر ہمارے بستر پڑے ہوئے ہیں

تمہیں یہ چہرہ تمام تر تو نہیں دِکھے گا

ہم اپنے باطن سے کچھ ہی باہر پڑے ہوئے ہیں

Thursday, 16 September 2021

جس طرح خواب کی ترسیل نہیں ہو سکتی

 جس طرح خواب کی ترسیل نہیں ہو سکتی

اس طرح آپ کی تمثیل نہیں ہو سکتی

مرتبہ ان کا بہت خاص ہے لیکن مجھ سے

ان کے ہر حکم کی تعمیل نہیں ہو سکتی

میں تِرے غم سے پگھل کے ہوا پانی ورنہ

آگ پانی میں تو تحلیل نہیں ہو سکتی

تم سے ہر طور محبت کی ہے

 تم سے ہر طور محبت کی ہے

ہاں مگر طرزِ عداوت کی ہے

ہم روایت کو نہیں مانتے ہیں

ہم نے پُرکھوں سے بغاوت کی ہے

بات یہ ہے کہ عقیدوں سے سوا

میں نے انسان کی عزت کی ہے