تمہارا غم منایا جا رہا ہے
جگر کا خوں جلایا جا رہا ہے
پریشاں ہے امیرِ شہر اب کیوں
اسے شیشہ دکھایا جا رہا ہے
تماشہ خوب ہے دیکھو وہاں پر
طوائف کو ستایا جا رہا ہے
تمہارا غم منایا جا رہا ہے
جگر کا خوں جلایا جا رہا ہے
پریشاں ہے امیرِ شہر اب کیوں
اسے شیشہ دکھایا جا رہا ہے
تماشہ خوب ہے دیکھو وہاں پر
طوائف کو ستایا جا رہا ہے
خیال شعر کو سادہ بیاں سمجھتا ہے
ہمارے دکھ کو زمانہ کہاں سمجھتا ہے
تِرا خیال ستاتا رہا مجھے شب بھر
تِرا خیال مِرا غم کہاں سمجھتا ہے
اسی لیے تو اسے ﮈر نہیں ہے اے دنیا
فقیر تم کو بُرا امتحاں سمجھتا ہے
گرمئ غم جو ستائے تو گِلہ مت کیجیۓ
رنج ہمزاد بنائے تو گلہ مت کیجیۓ
اس کو معلوم اندھیرے سے ہے رغبت ہم کو
پھر بھی وہ دِیپ جلائے تو گلہ مت کیجیۓ
جلوۂ طور کسی آنکھ میں آنے سے رہا
وہ اگر رُخ کو چُھپائے تو گلہ مت کیجیۓ
دل محبت سے ہو گئے خالی
گو کہ نعمت سے ہو گئے خالی
من عداوت سے بھر گئے اتنا
خوب سیرت سے ہو گئے خالی
رنگ ہوتے ہوئے بھی یہ غنچے
اپنی رنگت سے ہو گئے خالی
یہ کون کہتا ہے ہم کو؛ بے در پڑے ہوئے ہیں
فقیر بن کے تِرے سرِ در پڑے ہوئے ہیں
ہماری نیندیں چلی گئی ہے کہیں بہت دور
ہمارے اوپر ہمارے بستر پڑے ہوئے ہیں
تمہیں یہ چہرہ تمام تر تو نہیں دِکھے گا
ہم اپنے باطن سے کچھ ہی باہر پڑے ہوئے ہیں
جس طرح خواب کی ترسیل نہیں ہو سکتی
اس طرح آپ کی تمثیل نہیں ہو سکتی
مرتبہ ان کا بہت خاص ہے لیکن مجھ سے
ان کے ہر حکم کی تعمیل نہیں ہو سکتی
میں تِرے غم سے پگھل کے ہوا پانی ورنہ
آگ پانی میں تو تحلیل نہیں ہو سکتی
تم سے ہر طور محبت کی ہے
ہاں مگر طرزِ عداوت کی ہے
ہم روایت کو نہیں مانتے ہیں
ہم نے پُرکھوں سے بغاوت کی ہے
بات یہ ہے کہ عقیدوں سے سوا
میں نے انسان کی عزت کی ہے