تم سے ہر طور محبت کی ہے
ہاں مگر طرزِ عداوت کی ہے
ہم روایت کو نہیں مانتے ہیں
ہم نے پُرکھوں سے بغاوت کی ہے
بات یہ ہے کہ عقیدوں سے سوا
میں نے انسان کی عزت کی ہے
ہم محبت کو برا کیوں مانیں؟
ہم نے خود بھی تو محبت کی ہے
تیری تکذیب کیا کرتے ہیں
مفلسی میں یہ جہالت کی ہے
آپ! وہ بھی مِرے گھر، خیر تو ہے؟
آپ نے کس لیے زحمت کی ہے؟
میں نے بھی خواب نئے دیکھے ہیں
اُس کی آنکھوں نے بھی ہمت کی ہے
مسکراتے ہوئے ہر شب دل نے
غم کے اجلاس میں شرکت کی ہے
وہ یہیں رہ گیا سنقر سامی
جس نے اس راہ میں عجلت کی ہے
سنقر سامی
No comments:
Post a Comment