زخم سارے خوں اگلتے رہ گئے تھے
چارہ گر کے سب ہی حیلے رہ گئے تھے
آ گیا وہ دشمنِ جاں غیر کے ساتھ
ناتواں دل پر یہ حملے رہ گئے تھے
کون ہو جی تم نہیں پہچانا ہم نے
سننے کو بس یہ ہی جملے رہ گئے تھے
شام ہوتے سب پرندے لوٹ آئے
ایک ہم تھے راہ بھولے رہ گئے تھے
خوب ٹوٹا خواب تھا کل شب ہمارا
وہ ہمارے ہوتے ہوتے رہ گئے تھے
جان جوکھوں سے جو آئی وصل کی شب
وہ مِری بانہوں میں سوتے رہ گئے تھے
بخیہ گر تھے یوں تو سب ہی بستی والے
زخم میرے پھر بھی رستے رہ گئے تھے
بہہ گیا سیلاب میں تھا شہر سارا
بند کے کچھ ٹوٹے تختے رہ گئے تھے
اہلِ نفرت تخت پر بیٹھے ہوے تھے
شام مجنوں اور رانجھے رہ گئے تھے
آگ پھیلی نفرتوں کی گاؤں میں تو
صرف بوڑھے اور بچے رہ گئے تھے
رات کو مزدور کی تھی جیب خالی
کُھردرے ہاتھوں پہ چھالے رہ گئے تھے
آگئی لکنت تھی پھر لہجے میں ان کے
بات سچی کہتے کہتے رہ گئے تھے
آنکھ کے رستے بہا کرتے تھے پھر وہ
لفظ جو سینے میں گھٹ کے رہ گئے تھے
پیٹ نے مجبور ہجرت پر کیا تھا
میرے ارماں سب ادھورے رہ گئے تھے
دُکھ میں تشنہ کام آئے غیر ہی سب
یار سارے میرے پیچھے رہ گئے تھے
عامر شہزاد تشنہ
No comments:
Post a Comment