Showing posts with label جے پی سعید. Show all posts
Showing posts with label جے پی سعید. Show all posts

Sunday, 13 April 2025

کھل اٹھا تھا جو گلشن باغباں کی کاوش سے

 کھل اٹھا تھا جو گلشن باغباں کی کاوش سے

وہ اجڑ گیا آخر، موسموں کی سازش سے

کوہسار و صحرا ہوں، کھیت ہوں کہ ندیاں ہوں

مستفیض ہوتے ہیں ابر کی تراوش سے

جو خوشی سے آئے گا، جائے گا وہ افسردہ

فائدہ ہی کیا آخر زخم کی نمائش سے

Tuesday, 18 March 2025

شمع محفل میں جلے یا جلے پروانے سے

 شمع محفل میں جلے یا جلے پروانے سے

فرق کرتی نہیں پروانے سے پروانے میں

آپ ناراض ہوئے، کوئی سبب تو ہو گا

کیا کوئی مجھ سے خطا ہو گئی انجانے میں

حل طلب بات ہوئی ہے دونوں کی معمے کی طرح

فرق کوئی دیوانے میں فرزانے میں

Saturday, 22 February 2025

یہ بازار محبت ہے یہاں نفرت نہیں ملتی

یہ بازارِ محبت ہے یہاں نفرت نہیں ملتی

جہاں خورشید ہوتا ہے وہاں ظلمت نہیں ملتی

ہجوم مردماں میں اجنبی بھی ہیں شناسا بھی

کوئی بستی کہ جس سے دل کو ہو رغبت نہیں ملتی

دلِ پُر درد بھی اک خاص عطا ہوتی ہے مالک کی

کہ اس دنیا میں ہر سینے کو یہ دولت نہیں ملتی

Wednesday, 27 April 2022

خوشی ملی نہ اگر مجھ کو ذوق غم تو ملا

خوشی ملی نہ اگر مجھ کو ذوقِ غم تو ملا

ملی نہ دولت دنیا مجھے قلم تو ملا

خوشی میں خوش ہوں تو غم میں بھی مسکراتا ہوں

کہ مجھ کو ظرف پذیرائی الم تو ملا

نہیں ہے کم کسی جمشید سے مری تقدیر

بشکل قلب مجھے ایک جام جم تو ملا

Sunday, 18 November 2012

یقین جس کا ہے وہ بات بھی گماں ہی لگے

  یقین جس کا ہے وہ بات بھی گماں ہی لگے

وہ مہربان ہے لیکن بلائے جاں ہی لگے

ہم اتنی مرتبہ گزرے ہیں آزمائش سے

وہ سیدھی بات بھی پوچھے تو امتحاں ہی لگے

ترس گئے ہیں کہ کھل کر کسی سے بات کریں

ہر آشنا ہمیں غیروں کا راز داں ہی لگے