کھل اٹھا تھا جو گلشن باغباں کی کاوش سے
وہ اجڑ گیا آخر، موسموں کی سازش سے
کوہسار و صحرا ہوں، کھیت ہوں کہ ندیاں ہوں
مستفیض ہوتے ہیں ابر کی تراوش سے
جو خوشی سے آئے گا، جائے گا وہ افسردہ
فائدہ ہی کیا آخر زخم کی نمائش سے
کھل اٹھا تھا جو گلشن باغباں کی کاوش سے
وہ اجڑ گیا آخر، موسموں کی سازش سے
کوہسار و صحرا ہوں، کھیت ہوں کہ ندیاں ہوں
مستفیض ہوتے ہیں ابر کی تراوش سے
جو خوشی سے آئے گا، جائے گا وہ افسردہ
فائدہ ہی کیا آخر زخم کی نمائش سے
شمع محفل میں جلے یا جلے پروانے سے
فرق کرتی نہیں پروانے سے پروانے میں
آپ ناراض ہوئے، کوئی سبب تو ہو گا
کیا کوئی مجھ سے خطا ہو گئی انجانے میں
حل طلب بات ہوئی ہے دونوں کی معمے کی طرح
فرق کوئی دیوانے میں فرزانے میں
یہ بازارِ محبت ہے یہاں نفرت نہیں ملتی
جہاں خورشید ہوتا ہے وہاں ظلمت نہیں ملتی
ہجوم مردماں میں اجنبی بھی ہیں شناسا بھی
کوئی بستی کہ جس سے دل کو ہو رغبت نہیں ملتی
دلِ پُر درد بھی اک خاص عطا ہوتی ہے مالک کی
کہ اس دنیا میں ہر سینے کو یہ دولت نہیں ملتی
خوشی ملی نہ اگر مجھ کو ذوقِ غم تو ملا
ملی نہ دولت دنیا مجھے قلم تو ملا
خوشی میں خوش ہوں تو غم میں بھی مسکراتا ہوں
کہ مجھ کو ظرف پذیرائی الم تو ملا
نہیں ہے کم کسی جمشید سے مری تقدیر
بشکل قلب مجھے ایک جام جم تو ملا
یقین جس کا ہے وہ بات بھی گماں ہی لگے
وہ مہربان ہے لیکن بلائے جاں ہی لگے
ہم اتنی مرتبہ گزرے ہیں آزمائش سے
وہ سیدھی بات بھی پوچھے تو امتحاں ہی لگے
ترس گئے ہیں کہ کھل کر کسی سے بات کریں
ہر آشنا ہمیں غیروں کا راز داں ہی لگے