Showing posts with label ثمر علی. Show all posts
Showing posts with label ثمر علی. Show all posts

Thursday, 30 March 2023

تری گلی میں دوپہریں سبھی مناؤں گا

 تِری گلی میں دوپہریں سبھی مناؤں گا

بدن کو تیری محبت میں یوں جلاؤں گا

تمہارے شہر میں آؤں گا لوٹ کر، لیکن

کسی بھی پھول کی خوشبو نہیں چُراؤں گا

وہ فاختہ جو کبھی آئے میرے گھر کی طرف

میں پیڑ بن کے گلے سے اسے لگاؤں گا

Thursday, 17 November 2022

دعا کو ہاتھ اٹھائے ہوئے زمانہ ہوا

 دعا کو ہاتھ اٹھائے ہوئے زمانہ ہوا

خدا کو گھر میں بلائے ہوئے زمانہ ہوا

تمہاری یاد کا دیپک جلا کے راتوں میں

ہوا سے آنکھ ملائے ہوئے زمانے ہوا

تمہارے خواب مِرا آخری اثاثہ تھے

تمہارے خواب جلائے ہوئے زمانہ ہوا

Monday, 31 October 2022

خواب برگد کے درخت ہیں

 خواب برگد کے درخت ہیں

غیظ کی تند و تیز آندھی پتے ادھیڑتی ہے

بارش اور اولے ٹہنیوں میں چھید کرتے ہیں

اور میرے سینے میں کائی جمنے لگتی ہے

گھونسلے گرنے سے پرندے یتیم ہو جاتے ہیں

ہُدہُد کی آنکھوں میں سفید موتیا اتر آتا ہے

Monday, 17 October 2022

تیری صورت بھی کیا نظر آئی

 تیری صورت بھی کیا نظر آئی

دیر تک دوپہر مجھ پہ لہرائی

بڑھتا جاتا ہے کرب کا عالم

کاٹ کھاتی ہے روز تنہائی

تیری فرقت میں رات دن ہنسنا

جیسے مقتل میں بجتی شہنائی

Wednesday, 5 October 2022

غم کی سلاخیں آنکھوں میں اکثر لگائیں گے

 غم کی سلاخیں آنکھوں میں اکثر لگائیں گے

دل میں اُداسیوں کا دُھواں بھرتے جائیں گے

ہم ضبط کی ندی سے لگائیں گے اپنے ہونٹ

آنکھوں سے آنسوؤں کا سمندر بہائیں گے

پہلے گلے لگا کے تجھے روئیں زار زار

پھر تیرے ہاتھ چُوم کے تجھ کو منائیں گے

Monday, 3 October 2022

تم نے چھتری کاٹ کر ایک چھوٹی سی پتنگ بنائی

 پتنگ


تم نے چھتری کاٹ کر ایک چھوٹی سی پتنگ بنائی

اور پھر اسے بڑے آسمان پر اڑانے لگے

آسمان جو پہلے بادلوں سے بھرا تھا

اب رنگ برنگی پتنگوں کے مقابل تھا

جب پتنگیں پینترا بدل کر شکنجہ کَستیں

 اور آپس میں گتھم گتھا ہونے لگتیں

Tuesday, 22 March 2022

جب دوست بچھڑتے ہیں پیڑ کی جڑیں زنگ پکڑتی ہیں

جب دوست بچھڑتے ہیں


پیڑ کی جڑیں زنگ پکڑتی ہیں

آسمان بارود اُگلتا ہے

شکاری فلک شگاف قہقہہ لگاتا ہے

اور پرندے کارتوس کی بُو پا کر بے ہوش ہو جاتے ہیں

وزیر بادشاہ کا قتل کر دیتا ہے

Sunday, 14 March 2021

عمر اس سوچ میں کٹی ہو گی

 عمر اس سوچ میں کٹی ہو گی

اس کہانی میں جل پری ہو گی

دھند سوچوں پہ جم گئی ہو گی

اور گاڑی بھی چل رہی ہو گی

دل کے ٹکڑے سنبھال کر رکھنا

ان چراغوں میں روشنی ہو گی