تِری گلی میں دوپہریں سبھی مناؤں گا
بدن کو تیری محبت میں یوں جلاؤں گا
تمہارے شہر میں آؤں گا لوٹ کر، لیکن
کسی بھی پھول کی خوشبو نہیں چُراؤں گا
وہ فاختہ جو کبھی آئے میرے گھر کی طرف
میں پیڑ بن کے گلے سے اسے لگاؤں گا
تِری گلی میں دوپہریں سبھی مناؤں گا
بدن کو تیری محبت میں یوں جلاؤں گا
تمہارے شہر میں آؤں گا لوٹ کر، لیکن
کسی بھی پھول کی خوشبو نہیں چُراؤں گا
وہ فاختہ جو کبھی آئے میرے گھر کی طرف
میں پیڑ بن کے گلے سے اسے لگاؤں گا
دعا کو ہاتھ اٹھائے ہوئے زمانہ ہوا
خدا کو گھر میں بلائے ہوئے زمانہ ہوا
تمہاری یاد کا دیپک جلا کے راتوں میں
ہوا سے آنکھ ملائے ہوئے زمانے ہوا
تمہارے خواب مِرا آخری اثاثہ تھے
تمہارے خواب جلائے ہوئے زمانہ ہوا
خواب برگد کے درخت ہیں
غیظ کی تند و تیز آندھی پتے ادھیڑتی ہے
بارش اور اولے ٹہنیوں میں چھید کرتے ہیں
اور میرے سینے میں کائی جمنے لگتی ہے
گھونسلے گرنے سے پرندے یتیم ہو جاتے ہیں
ہُدہُد کی آنکھوں میں سفید موتیا اتر آتا ہے
تیری صورت بھی کیا نظر آئی
دیر تک دوپہر مجھ پہ لہرائی
بڑھتا جاتا ہے کرب کا عالم
کاٹ کھاتی ہے روز تنہائی
تیری فرقت میں رات دن ہنسنا
جیسے مقتل میں بجتی شہنائی
غم کی سلاخیں آنکھوں میں اکثر لگائیں گے
دل میں اُداسیوں کا دُھواں بھرتے جائیں گے
ہم ضبط کی ندی سے لگائیں گے اپنے ہونٹ
آنکھوں سے آنسوؤں کا سمندر بہائیں گے
پہلے گلے لگا کے تجھے روئیں زار زار
پھر تیرے ہاتھ چُوم کے تجھ کو منائیں گے
پتنگ
تم نے چھتری کاٹ کر ایک چھوٹی سی پتنگ بنائی
اور پھر اسے بڑے آسمان پر اڑانے لگے
آسمان جو پہلے بادلوں سے بھرا تھا
اب رنگ برنگی پتنگوں کے مقابل تھا
جب پتنگیں پینترا بدل کر شکنجہ کَستیں
اور آپس میں گتھم گتھا ہونے لگتیں
جب دوست بچھڑتے ہیں
پیڑ کی جڑیں زنگ پکڑتی ہیں
آسمان بارود اُگلتا ہے
شکاری فلک شگاف قہقہہ لگاتا ہے
اور پرندے کارتوس کی بُو پا کر بے ہوش ہو جاتے ہیں
وزیر بادشاہ کا قتل کر دیتا ہے
عمر اس سوچ میں کٹی ہو گی
اس کہانی میں جل پری ہو گی
دھند سوچوں پہ جم گئی ہو گی
اور گاڑی بھی چل رہی ہو گی
دل کے ٹکڑے سنبھال کر رکھنا
ان چراغوں میں روشنی ہو گی