Wednesday, 5 October 2022

غم کی سلاخیں آنکھوں میں اکثر لگائیں گے

 غم کی سلاخیں آنکھوں میں اکثر لگائیں گے

دل میں اُداسیوں کا دُھواں بھرتے جائیں گے

ہم ضبط کی ندی سے لگائیں گے اپنے ہونٹ

آنکھوں سے آنسوؤں کا سمندر بہائیں گے

پہلے گلے لگا کے تجھے روئیں زار زار

پھر تیرے ہاتھ چُوم کے تجھ کو منائیں گے

پھولوں سے دوستی میں بڑا فائدہ ہوا

تتلی کی دوستی سے بھی ہم فیض پائیں گے

بحرِ جنوں میں ڈوبنا جب بھی ہوا نصیب

محرومیوں پہ لوگ نئے گیت گائیں گے

مذہب پسند آپ ہیں،۔ شدت پسند میں

مجھ سے گناہگار جہنم میں جائیں گے


ثمر علی

ثمر محمد علی

No comments:

Post a Comment