عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
ذکرِ شبیرؑ تو ہے لفظ و بیاں سے آگے
دل کا غم لے کے بڑھو آہ و فغاں سے آگے
وہی کر سکتا ہے عرفانِ حسینؑ ابن علیؑ
دیکھ سکتا ہے جو ہر خطرۂ جاں سے آگے
اِس حقیقت کو سمجھتا ہے شہیدوں کا لہو
کِن بہاروں کا سماں ہے رگِ جاں سے آگے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
ذکرِ شبیرؑ تو ہے لفظ و بیاں سے آگے
دل کا غم لے کے بڑھو آہ و فغاں سے آگے
وہی کر سکتا ہے عرفانِ حسینؑ ابن علیؑ
دیکھ سکتا ہے جو ہر خطرۂ جاں سے آگے
اِس حقیقت کو سمجھتا ہے شہیدوں کا لہو
کِن بہاروں کا سماں ہے رگِ جاں سے آگے
زمانہ بے کراں تھا بے کراں ہم نے نہیں رکھا
تِرے غم سے ورا کوئی جہاں ہم نے نہیں رکھا
ہمیشہ سامنے آئے مثالِ صبحِ رخشندہ
کبھی مدھم اجالوں کا سماں ہم نے نہیں رکھا
عطا کی اس ضو سے بزم ہر امکاں کو تابانی
کبھی دل کو چراغ نیم جاں ہم نے نہیں رکھا
جیسے ہی بندھی سونے کی زنجیر گدھوں سے
ہونے لگا ہر شخص بغل گیر گدھوں سے
مت پوچھیۓ کیا کیف کا عالم ہوا طاری
وابستہ ہوئی اپنی جو تقدیر گدھوں سے
یہ حسنِ عقیدت بھی تو ہے دید کے قابل
ہم لیتے ہیں ہر خواب کی تعبیر گدھوں سے
یونہی فریبِ نظر کی طناب ٹوٹتی ہے
قدم بڑھائیے موجِ سراب ٹوٹتی ہے
جہاں چٹکتا ہے غنچہ زمینِ عالم پر
وہیں پہ تشنگئ آفتاب ٹوٹتی ہے
نقاب اٹھاؤ تو ہر شے کو پاؤ گے سالم
یہ کائنات بطورِ حجاب ٹوٹتی ہے
جس کو دیکھو خواب میں الجھا بیٹھا ہے
اپنے ہی پایاب میں الجھا بیٹھا ہے
آنسو آنسو جس نے دریا پار کیۓ
قطرہ قطرہ آب میں الجھا بیٹھا ہے
بھول کے جوہری اپنے لعل و جواہر کو
شوقِ دُرِ نایاب میں الجھا بیٹھا ہے
عمر گزری سفر کے پہلو میں
خوب سے خوب تر کے پہلو میں
سانس لیتا ہے ذوقِ لا محدود
خواہشِ بام و در کے پہلو میں
شر کو کیا سمجھے یہ غبی مخلوق
شر کہاں ہے بشر کے پہلو میں