Showing posts with label مشکور حسین یاد. Show all posts
Showing posts with label مشکور حسین یاد. Show all posts

Wednesday, 26 July 2023

ذکر شبیر تو ہے لفظ و بیاں سے آگے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


ذکرِ شبیرؑ تو ہے لفظ و بیاں سے آگے

دل کا غم لے کے بڑھو آہ و فغاں سے آگے

وہی کر سکتا ہے عرفانِ حسینؑ ابن علیؑ

دیکھ سکتا ہے جو ہر خطرۂ جاں سے آگے

اِس حقیقت کو سمجھتا ہے شہیدوں کا لہو

کِن بہاروں کا سماں ہے رگِ جاں سے آگے

Tuesday, 9 November 2021

زمانہ بے کراں تھا بے کراں ہم نے نہیں رکھا

 زمانہ بے کراں تھا بے کراں ہم نے نہیں رکھا

تِرے غم سے ورا کوئی جہاں ہم نے نہیں رکھا

ہمیشہ سامنے آئے مثالِ صبحِ رخشندہ

کبھی مدھم اجالوں کا سماں ہم نے نہیں رکھا

عطا کی اس ضو سے بزم ہر امکاں کو تابانی

کبھی دل کو چراغ نیم جاں ہم نے نہیں رکھا

Monday, 25 October 2021

جیسے ہی بندھی سونے کی زنجیر گدھوں سے

 جیسے ہی بندھی سونے کی زنجیر گدھوں سے

ہونے لگا ہر شخص بغل گیر گدھوں سے

مت پوچھیۓ کیا کیف کا عالم ہوا طاری

وابستہ ہوئی اپنی جو تقدیر گدھوں سے

یہ حسنِ عقیدت بھی تو ہے دید کے قابل

ہم لیتے ہیں ہر خواب کی تعبیر گدھوں سے

Sunday, 24 October 2021

یونہی فریبِ نظر کی طناب ٹوٹتی ہے

 یونہی فریبِ نظر کی طناب ٹوٹتی ہے 

قدم بڑھائیے موجِ سراب ٹوٹتی ہے 

جہاں چٹکتا ہے غنچہ زمینِ عالم پر 

وہیں پہ تشنگئ آفتاب ٹوٹتی ہے

نقاب اٹھاؤ تو ہر شے کو پاؤ گے سالم 

یہ کائنات بطورِ حجاب ٹوٹتی ہے 

Saturday, 23 October 2021

جس کو دیکھو خواب میں الجھا بیٹھا ہے

جس کو دیکھو خواب میں الجھا بیٹھا ہے 

اپنے ہی پایاب میں الجھا بیٹھا ہے 

آنسو آنسو جس نے دریا پار کیۓ 

قطرہ قطرہ آب میں الجھا بیٹھا ہے 

بھول کے جوہری اپنے لعل و جواہر کو 

شوقِ دُرِ نایاب میں الجھا بیٹھا ہے 

Monday, 2 August 2021

عمر گزری سفر کے پہلو میں

 عمر گزری سفر کے پہلو میں

خوب سے خوب تر کے پہلو میں

سانس لیتا ہے ذوقِ لا محدود

خواہشِ بام و در کے پہلو میں

شر کو کیا سمجھے یہ غبی مخلوق

شر کہاں ہے بشر کے پہلو میں