Saturday, 25 July 2026

کہا جا چکا ہے سنا جا چکا ہے

 کہا جا چکا ہے سنا جا چکا ہے

مقدر میں کیا کیا لکھا جا چکا ہے

میں بیٹھا یہاں ہوں مگر یہ مرا دل

مدینے، نجف، کربلا جا چکا ہے

تجھے زعم ہے پارسائی کا لیکن

نگاہوں سے تجھ کو چھوا کا چکا ہے

بڑی مشکلوں سے جسے میں نے کاٹا

وہ دن ہانپتا کانپتا جا چکا ہے

وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے

کہ چہرے پہ لکھا پڑھا جا چکا ہے

مجھے ضبط کا مشورہ دینے والے

تجھے کیا خبر کیا مرا جا چکا ہے


مشتاق بخاری

No comments:

Post a Comment