کہا جا چکا ہے سنا جا چکا ہے
مقدر میں کیا کیا لکھا جا چکا ہے
میں بیٹھا یہاں ہوں مگر یہ مرا دل
مدینے، نجف، کربلا جا چکا ہے
تجھے زعم ہے پارسائی کا لیکن
نگاہوں سے تجھ کو چھوا کا چکا ہے
بڑی مشکلوں سے جسے میں نے کاٹا
وہ دن ہانپتا کانپتا جا چکا ہے
وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے
کہ چہرے پہ لکھا پڑھا جا چکا ہے
مجھے ضبط کا مشورہ دینے والے
تجھے کیا خبر کیا مرا جا چکا ہے
مشتاق بخاری
No comments:
Post a Comment