عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
گراں نہ گزرے کہیں میری قال و قیل حضور
مِری متاعِ سخن ہے بہت قلیل حضورﷺ
زمین آپﷺ کے آنے سے ذی مقام ہوئی
مِرے عظیم پیمبرؐ، مِرے نبیل، حضورﷺ
برستے ابر کا،۔ تاروں کا،۔ اِن گلابوں🌹 کا
جمال آپؐ سے ہے اے مِرے جمیل حضورﷺ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
گراں نہ گزرے کہیں میری قال و قیل حضور
مِری متاعِ سخن ہے بہت قلیل حضورﷺ
زمین آپﷺ کے آنے سے ذی مقام ہوئی
مِرے عظیم پیمبرؐ، مِرے نبیل، حضورﷺ
برستے ابر کا،۔ تاروں کا،۔ اِن گلابوں🌹 کا
جمال آپؐ سے ہے اے مِرے جمیل حضورﷺ
دیارِ چشمِ نمیدہ میں خشکبو نہ ہوئے
ہزار شکر مِرے رنج بے نمو نہ ہوئے
بدن کی خاک تیمم کے کام آتی رہی
نمازِ وحشتِ شب ہا کو بے وضو نہ ہوئے
بلائے خوف تِری ناخنی گرفت میں ہم
کچھ ایسے طور سے ادھڑے کہ پھر رفو نہ ہوئے
QUEST
ہمیں وہ خواب لا دو
جن کو دیکھنے کے لیے ہمیں کوئی رات نہیں دی گئی
اور وہ رات
جس کو طاری ہونے سے بچنے کے لیے
ہمارے اوپر جلتے سورج پہریدار کئے گئے
خدا سے اپنا تعلق عجیب رہا ہے
میں مصور ہوتا تو اس تعلق کو ضرور پینٹ کرتا
ایک پینٹنگ بناتا
جس میں کسی شاخ پہ کوئی پنچھی بیٹھا ہوتا
اور ایک شکاری اس کا نشانہ لیے کھڑا ہوتا
اور ایک رہگیر دم سادھے یہ سب دیکھ رہا ہوتا
بھر گیا مجھ میں روشنی تِرا غم
محرما! کس قدر غنی ترا غم
دور کرتا ہے بے کلی ترا غم
چاہیۓ مجھ کو اور بھی ترا غم
جانے کس کس دیار میں ڈھونڈوں
اجنبی تُو ہے،۔ اجنبی ترا غم
ہمیں وہ خواب لا دو
جن کو دیکھنے کے لیے ہمیں کوئی رات نہیں دی گئی
اور وہ رات
جس کو طاری ہونے سے بچنے کے لیے
ہمارے اوپر جلتے سورج پہرے دار کئے گئے
ہماری نیند کہاں ہے؟
کسی کو ملتی نہیں ہے یہ آگہی مِرے دل
کہاں سے آئی ہوئی ہے یہ بے دلی مرے دل
تو کیا دیارِ اجل نے صدائیں دی تھیں انہیں؟
پلٹ کے آئے نہیں تیرے وحشتی مرے دل
یہ کون رقص کناں تھا تمام عمر یہاں
تمہاری چار دِشاؤں میں گرد تھی مرے دل