Showing posts with label کاشف شاہ. Show all posts
Showing posts with label کاشف شاہ. Show all posts

Monday, 1 January 2024

گراں نہ گزرے کہیں میری قال و قیل حضور

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


گراں نہ گزرے کہیں میری قال و قیل حضور

مِری متاعِ سخن ہے بہت قلیل حضورﷺ

زمین آپﷺ کے آنے سے ذی مقام ہوئی

مِرے عظیم پیمبرؐ، مِرے نبیل، حضورﷺ

برستے ابر کا،۔ تاروں کا،۔ اِن گلابوں🌹 کا

جمال آپؐ سے ہے اے مِرے جمیل حضورﷺ

Sunday, 27 February 2022

دیار چشم نمیدہ میں خشکبو نہ ہوئے

 دیارِ چشمِ نمیدہ میں خشکبو نہ ہوئے

ہزار شکر مِرے رنج بے نمو نہ ہوئے

بدن کی خاک تیمم کے کام آتی رہی

نمازِ وحشتِ شب ہا کو بے وضو نہ ہوئے

بلائے خوف تِری ناخنی گرفت میں ہم

کچھ ایسے طور سے ادھڑے کہ پھر رفو نہ ہوئے

Thursday, 6 January 2022

ہمیں اپنی موت کی سہولت درکار ہے

 QUEST


ہمیں وہ خواب لا دو

جن کو دیکھنے کے لیے ہمیں کوئی رات نہیں دی گئی

اور وہ رات

جس کو طاری ہونے سے بچنے کے لیے 

ہمارے اوپر جلتے سورج پہریدار کئے گئے

Saturday, 1 January 2022

خدا سے اپنا تعلق عجیب رہا ہے

 خدا سے اپنا تعلق عجیب رہا ہے


میں مصور ہوتا تو اس تعلق کو ضرور پینٹ کرتا

ایک پینٹنگ بناتا

جس میں کسی شاخ پہ کوئی پنچھی بیٹھا ہوتا

اور ایک شکاری اس کا نشانہ لیے کھڑا ہوتا

اور ایک رہگیر دم سادھے یہ سب دیکھ رہا ہوتا

Friday, 31 December 2021

بھر گیا مجھ میں روشنی ترا غم

 بھر گیا مجھ میں روشنی تِرا غم

محرما! کس قدر غنی ترا غم

دور کرتا ہے بے کلی ترا غم

چاہیۓ مجھ کو اور بھی ترا غم

جانے کس کس دیار میں ڈھونڈوں

اجنبی تُو ہے،۔ اجنبی ترا غم

Tuesday, 29 June 2021

ہمیں وہ خواب لا دو جن کو دیکھنے کے لیے

 ہمیں وہ خواب لا دو

جن کو دیکھنے کے لیے ہمیں کوئی رات نہیں دی گئی

اور وہ رات

جس کو طاری ہونے سے بچنے کے لیے 

ہمارے اوپر جلتے سورج پہرے دار کئے گئے

ہماری نیند کہاں ہے؟

Wednesday, 3 March 2021

کسی کو ملتی نہیں ہے یہ آگہی مرے دل

 کسی کو ملتی نہیں ہے یہ آگہی مِرے دل

کہاں سے آئی ہوئی ہے یہ بے دلی مرے دل

تو کیا دیارِ اجل نے صدائیں دی تھیں انہیں؟

پلٹ کے آئے نہیں تیرے وحشتی مرے دل

یہ کون رقص کناں تھا تمام عمر یہاں

تمہاری چار دِشاؤں میں گرد تھی مرے دل