کسی کو ملتی نہیں ہے یہ آگہی مِرے دل
کہاں سے آئی ہوئی ہے یہ بے دلی مرے دل
تو کیا دیارِ اجل نے صدائیں دی تھیں انہیں؟
پلٹ کے آئے نہیں تیرے وحشتی مرے دل
یہ کون رقص کناں تھا تمام عمر یہاں
تمہاری چار دِشاؤں میں گرد تھی مرے دل
مِرے بدن میں دراڑیں سی پڑ گئیں دیکھو
یہ کس طرح کی دھمک تم سے اٹھ رہی مرے دل
کسی کے سازِ تکلم کے روبرو تھے حواس
محابا کیا تھا جو رک جاتے دو گھڑی مرے دل
کاشف شاہ
No comments:
Post a Comment