Wednesday, 3 March 2021

ایک کروٹ سے دوسری کا سفر

 ایک کروٹ سے دوسری کا سفر

رات جیسا ہے زندگی کا سفر

سب کا رونا بھی ہم ہی روئیں گے

کاٹ لیتے ہیں ہر کسی کا سفر

نور کی نور تک رسائی ہے

آدمی تک ہے آدمی کا سفر

اس کے جانے سے لوٹ آنے تک

ایک ہچکی سے اک ہنسی کا سفر

آنا جانا بھی کیا سہولت ہے

پر تھکن ہے کبھی کبھی کا سفر

بے سبب بے طلب کیے جاؤں

بادشاہا تِری گلی کا سفر


علی ادراک

No comments:

Post a Comment