ایک کروٹ سے دوسری کا سفر
رات جیسا ہے زندگی کا سفر
سب کا رونا بھی ہم ہی روئیں گے
کاٹ لیتے ہیں ہر کسی کا سفر
نور کی نور تک رسائی ہے
آدمی تک ہے آدمی کا سفر
اس کے جانے سے لوٹ آنے تک
ایک ہچکی سے اک ہنسی کا سفر
آنا جانا بھی کیا سہولت ہے
پر تھکن ہے کبھی کبھی کا سفر
بے سبب بے طلب کیے جاؤں
بادشاہا تِری گلی کا سفر
علی ادراک
No comments:
Post a Comment