آئیں، ہمارے واسطے بیٹھیں، دعا کریں
ہونا تھا جو بھی ہو گیا، اب اور کیا کریں
اب رات بھر یہ سسکیاں لیتے ہیں کس لیے
کس نے کہا تھا آپ کو ہم سے دغا کریں
ہم کو بھی کچھ تو خواہشیں اپنی بتائیں ناں
ہم کیا کریں جو آپ کو اچھا لگا کریں
آئیں، ہمارے واسطے بیٹھیں، دعا کریں
ہونا تھا جو بھی ہو گیا، اب اور کیا کریں
اب رات بھر یہ سسکیاں لیتے ہیں کس لیے
کس نے کہا تھا آپ کو ہم سے دغا کریں
ہم کو بھی کچھ تو خواہشیں اپنی بتائیں ناں
ہم کیا کریں جو آپ کو اچھا لگا کریں
عرصے کے بعد آج وہ دیکھا دراز میں
تیرا جو خط سنبھال کے رکھا دراز میں
گاؤں کی دھوپ شہر کی آغوش میں نہیں
جتنا قرار دیکھ کے آیا دراز میں
میں جانتا ہوں چھوڑ کے وہ جا چکا مجھے
لیکن ہے پیار آج بھی زندہ دراز میں
اب یہ نہیں کہ عرش کا رب دیکھتا نہیں
جب دیکھتا ہوں میں اسے، تب دیکھتا نہیں
ویسے تو خود کشی پہ سبھی لوگ ہیں خفا
لیکن کوئی بھی اس کا سبب دیکھتا نہیں
پہلے تو کائنات تھا میں تیرے واسطے
حیران ہوں کہ تو مجھے اب دیکھتا نہیں