Showing posts with label داغ دہلوی. Show all posts
Showing posts with label داغ دہلوی. Show all posts

Saturday, 29 March 2025

یوں برس پڑتے ہیں کیا ایسے وفاداروں پر

 یوں برس پڑتے ہیں کیا ایسے وفاداروں پر

رکھ لیا تُو نے تو عشّاق کو تلواروں پر

کوچۂ یار سے، برباد بھی ہو کر نہ گیا

خاک اُڑ اُڑ کے مِری جم گئی، دیواروں پر

لے کے بوسے کسی بے رحم نے، ڈالے ہیں نشاں

کاکلیں چھُوٹی ہیں اِس واسطے، رُخساروں پر

Monday, 26 August 2024

عدوئے سامری فن دیکھے اعجازِ رقم میرا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عدوئے سامری فن دیکھے اعجازِ رقم میرا

عصائے موسوی ہے حمدِ خالق میں قلم میرا

برنگِ بُوئے گُل ہے ہر نفس یادِ الٰہی میں

قیامت تک بھرے گی دم نسیمِ صبحِ دم میرا

سلامت منزلِ مقصود تک اللہ پہنچا دے

مجھے آنکھیں دکھاتا ہے ہر اک نقشِ قدم میرا

Friday, 16 August 2024

سلام اس کو کیا جس کے نام چار طرف

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


سلام اس کو کیا جس کے نام چار طرف

اسی کے نام درودﷺ و سلام چار طرف

پڑی تھی گھیرے ہوئے فوجِ شام چار طرف

حسینؑ بیچ میں تھے روک تھام چار طرف

خضرؑ بھی لا نہ سکے ایک بوند پانی کی

یہ اشقیاء کا رہا انتظام چار طرف

Tuesday, 2 July 2024

بھوکے پیاسے بے وطن بے خانماں بیٹھے ہوئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اُن کو مجرا تھے جو زیرِ آسماں بیٹھے ہوئے

بھوکے پیاسے بے وطن بے خانماں بیٹھے ہوئے

شورِ ماتم سُن کے اہلِ بیتؑ کا سب اہلِ شام

شادیاں کرتے تھے گھر میں شادماں بیٹھے ہوئے

شاہؑ اس پر بھی اٹھا دیتے تھے اعدا کے قدم

تیر تن پر، دل پہ داغِ جاں ستاں بیٹھے ہوئے

Thursday, 9 May 2024

ساقیا دے بھی مئے روح افزا تھوڑی سی

 ساقیا دے بھی مئے روح افزا تھوڑی سی

بے وفا عمر کرے اور وفا تھوڑی سی

ہم تو اُس آنکھ کے ہیں دیکھنے والے دیکھو

جس میں شوخی ہے بہت اور حیا تھوڑی سی

وعدۂ غیر پہ کیا ہوتی ہے جلدی اُن کو

ہاتھ دھو ڈالتے ہیں مَل کے حنا تھوڑی سی

Monday, 6 May 2024

آپ جن کو ہدف تیر نظر کرتے ہیں

 آپ جن کو، ہدف تیرِ نظر کرتے ہیں

رات دن، ہائے جگر، ہائے جگر کرتے ہیں

اور کیا داغ کے اشعار اثر کرتے ہیں

گدگدی، دل میں حسینوں کے مگر کرتے ہیں

غیر کے سامنے یوں ہوتے ہیں، شکوے مجھ سے

دیکھتے ہیں وہ ادھر، بات اُدھر کرتے ہیں

Friday, 30 June 2023

رگ جاں سے نزدیک ہے میری جاں تو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رگِ جاں سے نزدیک ہے میری جاں تُو

مگر پھر جو دیکھا کہاں میں کہاں تُو

حقیقت میں ہے ماسویٰ چیز ہی کیا؟

اِدھر تُو اُدھر تُو، یہاں تُو وہاں تُو

نہ تو مجھ کو چھوڑے نہ میں تجھ کو چھوڑوں

وہیں تُو جہاں میں، وہیں میں جہاں تُو

Thursday, 15 September 2022

اللہ شوق دے مجھے نعت شریف کا

 عارفانہ کلام نعت و منقبت


اللہ شوق دے مجھے نعت شریف کا

شہرہ ہو خوب میرے کلام لطیف کا

سرسبز کِشتِ دل ہے محمدؐ کے عشق میں

کیا اس زمیں میں کام ربیع و خریف کا

اللہ رے اس کے علم لُدنی کا معجزہ

اُمیﷺ سبق پڑھائے کتاب شریف کا

Saturday, 3 September 2022

ہم اس جہان سے ارمان لے کے جائیں گے

 ہم اس جہان سے ارمان لے کے جائیں گے

خدا کے گھر یہی سامان لے کے جائیں گے

یہ ولولے تو میری جان لے کے جائیں گے

یہ ذوق شوق تو ایمان لے کے جائیں گے

وہ وقت نزع نہ آئیں عدو کے کہنے سے

ہم اور غیر اک احسان لے کے جائیں گے

Friday, 26 August 2022

میں کلمہ گو ہوں خاص خدا و رسول کا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


میں کلمہ گو ہوں خاص خدا و رسولِ کا

آتا ہے بامِ عرش سے مژدہ قبول کا

وہ پاک، بے نیاز تجسم سے ہے بری

محتاج فوق و تحت، نہ وہ عرض و طول کا

انسان سے بیاں ہوں کیوںکر صفات ذات

ایسا کہاں ہے ذہن ظلوم و بہول کا

Saturday, 13 August 2022

ہجر جاناں میں گئی جان بڑی مشکل سے

ہجر جاناں میں گئی جان بڑی مشکل سے

میری مشکل ہوئی آسان بڑی مشکل سے

ضعف تھا مانعِ آرائش وحشت کیا کیا

ہاتھ آیا ہے گریبان بڑی مشکل سے

بھولے بھالے ہیں فرشتوں کو کوئی پھسلا دے

مانتا ہے مگر انسان بڑی مشکل سے

Friday, 15 July 2022

کیوں چاٹ نہ لوں خاک در یار ذرا سی

 کیوں چاٹ نہ لوں خاکِ درِ یار ذرا سی

اکسیر ہے، اکسیر کی مقدار ذرا سی

اندیشہ ہے اک صاحبِ تقویٰ کی نظر کا

مے چھوڑ دیا کرتے ہیں میخوار ذرا سی

اے شوخ! غضب ہے تِرے ابرو کا اشارہ

کیا دیکھئے کرتی ہے یہ تلوار ذرا سی

Sunday, 3 July 2022

کچھ جو قاتل کا تبسم نمک افشاں ہوتا

 کچھ جو قاتل کا تبسم نمک افشاں ہوتا

کیا ہی پھیکا ہی مِرے زخموں سے نمکداں ہوتا

موت کا مجھ کو نہ کھٹکا شبِ ہجراں! ہوتا

میرے دروازے پر گر آپ کا درباں ہوتا

گر مِرے ہاتھ تِری بزم کا ساماں ہوتا

میزباں میں کبھی ہوتا کبھی مہماں ہوتا

Tuesday, 7 June 2022

رہے گا عشق ترا خاک میں ملا کے مجھے

 رہے گا عشق تِرا خاک میں ملا کے مجھے

کہ ابتدا میں ہوئے رنج انتہا کے مجھے

دیئے ہیں ہجر میں دکھ درد کس بلا کے مجھے

شبِ فراق نے مارا لٹا لٹا کے مجھے

بغیر موت کے کس طرح کوئی مرتا ہے

یقیں نہ آئے تو وہ دیکھ جائیں آ کے مجھے

Sunday, 1 May 2022

نگاہ پھیر کے عذر وصال کرتے ہیں

 نگاہ پھیر کے عذرِ وصال کرتے ہیں

مجھے وہ الٹی چُھری سے حلال کرتے ہیں

زبان قطع کرو، دل کو کیوں جلاتے ہو

اسی سے شکوہ، اسی سے سوال کرتے ہیں

نہ دیکھی نبض، نہ پوچھا مزاج بھی تم نے

مریضِ غم کو یونہی دیکھ بھال کرتے ہیں

چاک ہو پردۂ وحشت مجھے منظور نہیں

 چاک ہو پردۂ وحشت مجھے منظور نہیں

ورنہ، یہ ہاتھ گریبان سے کچھ دور نہیں

وصل سے یاس ہو ایسا دل مہجور نہیں

بُت اگر دور ہے مجھ سے تو خدا دور نہیں

چھین لیں دل کو اگر وہ تو یہ مجبوری ہے

میں کہے جاؤں گا محتاج ہوں مقدور نہیں

Sunday, 24 April 2022

بتوں کے کوچے سے ہم دلفگار ہو کے چلے

بتوں کے کوچے سے ہم دلفگار ہو کے چلے

شکار کرنے کو آئے شکار ہو کے چلے

تِری نگاہ بہت مست ہے سنبھل کے ذرا

سمند ناز و ادا پر سوار ہو کے چلے

ٹھہر گئے وہ جہاں سرد باغ تھے گویا

اگر چلے تو نسیم و بہار ہو کے چلے

Tuesday, 29 March 2022

کیا کہوں تیرے تغافل نے حیا نے کیا کیا

کیا کہوں تیرے تغافل نے، حیا نے کیا کیا

اِس ادا نے کیا کیا اور اس ادا نے کیا کیا

بوسہ لے کر جان ڈالی غیر کی تصویر میں

یہ اثر تیرے لبِ معجز نما نے کیا کیا

یاں جگر پر چل گئیں چھریاں کسی مشتاق کی

واں خبر یہ بھی نہیں ناز و ادا نے کیا کیا

Sunday, 12 December 2021

نہ ہو کیوں کر افضل ہمارا محمد

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


نہ ہو کیوں کر افضل ہمارا محمدﷺ

کہ ہے اپنے پیارے کا پیارا محمدﷺ

الہی یہ محشر میں ہم کہتے جائیں

کہاں ہے کہاں ہے ہمارا محمدﷺ

وہیں کشتیِ نوح بھی ڈوب جاتی

نہ دیتے جو اس کو سہارا محمدﷺ

Wednesday, 24 November 2021

یارب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


یا رب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا

محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا

جب تک ہے دل بغل میں ہر دم ہو یاد تیری

جب تک زباں ہے منہ میں‌ جاری ہو نام تیرا

ایمان کی کہیں گے؛ ایمان ہے ہمارا

احمدﷺ رسول تیرا، مصحف کلام تیرا