یوں برس پڑتے ہیں کیا ایسے وفاداروں پر
رکھ لیا تُو نے تو عشّاق کو تلواروں پر
کوچۂ یار سے، برباد بھی ہو کر نہ گیا
خاک اُڑ اُڑ کے مِری جم گئی، دیواروں پر
لے کے بوسے کسی بے رحم نے، ڈالے ہیں نشاں
کاکلیں چھُوٹی ہیں اِس واسطے، رُخساروں پر
یوں برس پڑتے ہیں کیا ایسے وفاداروں پر
رکھ لیا تُو نے تو عشّاق کو تلواروں پر
کوچۂ یار سے، برباد بھی ہو کر نہ گیا
خاک اُڑ اُڑ کے مِری جم گئی، دیواروں پر
لے کے بوسے کسی بے رحم نے، ڈالے ہیں نشاں
کاکلیں چھُوٹی ہیں اِس واسطے، رُخساروں پر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عدوئے سامری فن دیکھے اعجازِ رقم میرا
عصائے موسوی ہے حمدِ خالق میں قلم میرا
برنگِ بُوئے گُل ہے ہر نفس یادِ الٰہی میں
قیامت تک بھرے گی دم نسیمِ صبحِ دم میرا
سلامت منزلِ مقصود تک اللہ پہنچا دے
مجھے آنکھیں دکھاتا ہے ہر اک نقشِ قدم میرا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
سلام اس کو کیا جس کے نام چار طرف
اسی کے نام درودﷺ و سلام چار طرف
پڑی تھی گھیرے ہوئے فوجِ شام چار طرف
حسینؑ بیچ میں تھے روک تھام چار طرف
خضرؑ بھی لا نہ سکے ایک بوند پانی کی
یہ اشقیاء کا رہا انتظام چار طرف
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اُن کو مجرا تھے جو زیرِ آسماں بیٹھے ہوئے
بھوکے پیاسے بے وطن بے خانماں بیٹھے ہوئے
شورِ ماتم سُن کے اہلِ بیتؑ کا سب اہلِ شام
شادیاں کرتے تھے گھر میں شادماں بیٹھے ہوئے
شاہؑ اس پر بھی اٹھا دیتے تھے اعدا کے قدم
تیر تن پر، دل پہ داغِ جاں ستاں بیٹھے ہوئے
ساقیا دے بھی مئے روح افزا تھوڑی سی
بے وفا عمر کرے اور وفا تھوڑی سی
ہم تو اُس آنکھ کے ہیں دیکھنے والے دیکھو
جس میں شوخی ہے بہت اور حیا تھوڑی سی
وعدۂ غیر پہ کیا ہوتی ہے جلدی اُن کو
ہاتھ دھو ڈالتے ہیں مَل کے حنا تھوڑی سی
آپ جن کو، ہدف تیرِ نظر کرتے ہیں
رات دن، ہائے جگر، ہائے جگر کرتے ہیں
اور کیا داغ کے اشعار اثر کرتے ہیں
گدگدی، دل میں حسینوں کے مگر کرتے ہیں
غیر کے سامنے یوں ہوتے ہیں، شکوے مجھ سے
دیکھتے ہیں وہ ادھر، بات اُدھر کرتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رگِ جاں سے نزدیک ہے میری جاں تُو
مگر پھر جو دیکھا کہاں میں کہاں تُو
حقیقت میں ہے ماسویٰ چیز ہی کیا؟
اِدھر تُو اُدھر تُو، یہاں تُو وہاں تُو
نہ تو مجھ کو چھوڑے نہ میں تجھ کو چھوڑوں
وہیں تُو جہاں میں، وہیں میں جہاں تُو
عارفانہ کلام نعت و منقبت
اللہ شوق دے مجھے نعت شریف کا
شہرہ ہو خوب میرے کلام لطیف کا
سرسبز کِشتِ دل ہے محمدؐ کے عشق میں
کیا اس زمیں میں کام ربیع و خریف کا
اللہ رے اس کے علم لُدنی کا معجزہ
اُمیﷺ سبق پڑھائے کتاب شریف کا
ہم اس جہان سے ارمان لے کے جائیں گے
خدا کے گھر یہی سامان لے کے جائیں گے
یہ ولولے تو میری جان لے کے جائیں گے
یہ ذوق شوق تو ایمان لے کے جائیں گے
وہ وقت نزع نہ آئیں عدو کے کہنے سے
ہم اور غیر اک احسان لے کے جائیں گے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میں کلمہ گو ہوں خاص خدا و رسولِ کا
آتا ہے بامِ عرش سے مژدہ قبول کا
وہ پاک، بے نیاز تجسم سے ہے بری
محتاج فوق و تحت، نہ وہ عرض و طول کا
انسان سے بیاں ہوں کیوںکر صفات ذات
ایسا کہاں ہے ذہن ظلوم و بہول کا
ہجر جاناں میں گئی جان بڑی مشکل سے
میری مشکل ہوئی آسان بڑی مشکل سے
ضعف تھا مانعِ آرائش وحشت کیا کیا
ہاتھ آیا ہے گریبان بڑی مشکل سے
بھولے بھالے ہیں فرشتوں کو کوئی پھسلا دے
مانتا ہے مگر انسان بڑی مشکل سے
کیوں چاٹ نہ لوں خاکِ درِ یار ذرا سی
اکسیر ہے، اکسیر کی مقدار ذرا سی
اندیشہ ہے اک صاحبِ تقویٰ کی نظر کا
مے چھوڑ دیا کرتے ہیں میخوار ذرا سی
اے شوخ! غضب ہے تِرے ابرو کا اشارہ
کیا دیکھئے کرتی ہے یہ تلوار ذرا سی
کچھ جو قاتل کا تبسم نمک افشاں ہوتا
کیا ہی پھیکا ہی مِرے زخموں سے نمکداں ہوتا
موت کا مجھ کو نہ کھٹکا شبِ ہجراں! ہوتا
میرے دروازے پر گر آپ کا درباں ہوتا
گر مِرے ہاتھ تِری بزم کا ساماں ہوتا
میزباں میں کبھی ہوتا کبھی مہماں ہوتا
رہے گا عشق تِرا خاک میں ملا کے مجھے
کہ ابتدا میں ہوئے رنج انتہا کے مجھے
دیئے ہیں ہجر میں دکھ درد کس بلا کے مجھے
شبِ فراق نے مارا لٹا لٹا کے مجھے
بغیر موت کے کس طرح کوئی مرتا ہے
یقیں نہ آئے تو وہ دیکھ جائیں آ کے مجھے
نگاہ پھیر کے عذرِ وصال کرتے ہیں
مجھے وہ الٹی چُھری سے حلال کرتے ہیں
زبان قطع کرو، دل کو کیوں جلاتے ہو
اسی سے شکوہ، اسی سے سوال کرتے ہیں
نہ دیکھی نبض، نہ پوچھا مزاج بھی تم نے
مریضِ غم کو یونہی دیکھ بھال کرتے ہیں
چاک ہو پردۂ وحشت مجھے منظور نہیں
ورنہ، یہ ہاتھ گریبان سے کچھ دور نہیں
وصل سے یاس ہو ایسا دل مہجور نہیں
بُت اگر دور ہے مجھ سے تو خدا دور نہیں
چھین لیں دل کو اگر وہ تو یہ مجبوری ہے
میں کہے جاؤں گا محتاج ہوں مقدور نہیں
بتوں کے کوچے سے ہم دلفگار ہو کے چلے
شکار کرنے کو آئے شکار ہو کے چلے
تِری نگاہ بہت مست ہے سنبھل کے ذرا
سمند ناز و ادا پر سوار ہو کے چلے
ٹھہر گئے وہ جہاں سرد باغ تھے گویا
اگر چلے تو نسیم و بہار ہو کے چلے
کیا کہوں تیرے تغافل نے، حیا نے کیا کیا
اِس ادا نے کیا کیا اور اس ادا نے کیا کیا
بوسہ لے کر جان ڈالی غیر کی تصویر میں
یہ اثر تیرے لبِ معجز نما نے کیا کیا
یاں جگر پر چل گئیں چھریاں کسی مشتاق کی
واں خبر یہ بھی نہیں ناز و ادا نے کیا کیا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
نہ ہو کیوں کر افضل ہمارا محمدﷺ
کہ ہے اپنے پیارے کا پیارا محمدﷺ
الہی یہ محشر میں ہم کہتے جائیں
کہاں ہے کہاں ہے ہمارا محمدﷺ
وہیں کشتیِ نوح بھی ڈوب جاتی
نہ دیتے جو اس کو سہارا محمدﷺ
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
یا رب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا
محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا
جب تک ہے دل بغل میں ہر دم ہو یاد تیری
جب تک زباں ہے منہ میں جاری ہو نام تیرا
ایمان کی کہیں گے؛ ایمان ہے ہمارا
احمدﷺ رسول تیرا، مصحف کلام تیرا