عارفانہ کلام نعتیہ کلام
نہ ہو کیوں کر افضل ہمارا محمدﷺ
کہ ہے اپنے پیارے کا پیارا محمدﷺ
الہی یہ محشر میں ہم کہتے جائیں
کہاں ہے کہاں ہے ہمارا محمدﷺ
وہیں کشتیِ نوح بھی ڈوب جاتی
نہ دیتے جو اس کو سہارا محمدﷺ
ابھی فرش سے عرش مل جائے جھک کر
کریں گر طلب کا اشارا محمدﷺ
یہی بات عاشق نے معشوق سے کی
نہیں تیری فرقت گوارا محمدﷺ
کہیں گے یہی اس شہِ انبیا سے
وہاں ہوں گے جب آشکارا محمدﷺ
شفیعِ امم روزِ محشر تمہیں ہو
ہمیں ہے تمھارا سہارا محمدﷺ
صدا خیر مقدم کی کعبے سے آئی
حرم سے جب آئے دوبارا محمدﷺ
بلا لو مدینے میں پھر داغ کو تم
نہیں ہند میں اب گزارا محمدﷺ
داغ دہلوی
No comments:
Post a Comment