کوئی نہیں جو نکلتے ہوئے کہے گھر سے
خدا بچائے تجھے حاسدین کے شر سے
میں ماں کی قبر پہ جا کر سلام کرتا ہوں
تو مجھ کو تھامنے آتے ہیں ہاتھ اندر سے
ہوا جو عشق میں ناکام، تو کہا خود سے
خدا کا شکر کہ یہ بھی بلا ٹلی سر سے
کوئی نہیں جو نکلتے ہوئے کہے گھر سے
خدا بچائے تجھے حاسدین کے شر سے
میں ماں کی قبر پہ جا کر سلام کرتا ہوں
تو مجھ کو تھامنے آتے ہیں ہاتھ اندر سے
ہوا جو عشق میں ناکام، تو کہا خود سے
خدا کا شکر کہ یہ بھی بلا ٹلی سر سے
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین
قضا کی تیغ سے کنبے کو کیوں بچائے حسینؑ
کہ جو رضائے خدا ہے، وہی رضائے حسینؑ
کچھ اس طرح سے تعارف ہے میرا لوگوں میں
یہ خاک پائے علیؑ ہے،۔ یہ خاک پائے حسینؑ
ذرا نہ خوف نکیرین کا مجھے ہو گا
مِرے کفن پہ یہ لکھنا کہ ہے گدائے حسینؑ
تم کو لگتا ہے محبت سے نکل آئے تھے
ہم تو یک طرفہ اذیت سے نکل آئے تھے
کتنا پُر سوز تھا منظر وہ جدائی والا
اشک آنکھوں کی حراست سے نکل آئے تھے
میں نکل آیا تھا کچھ خوابوں کے پیچھے پیچھے
اور پھر خواب حقیقت سے نکل آئے تھے
انجماد
تمہیں خبر ہے
یہ زندگی فلم ہے جسے اک پروڈیوسر نے لکھ دیا ہے
تمہیں خبر ہے
میں تم سے ملنے سے پہلے تم سے
ان آسمانوں میں مل چکا تھا
جب بھی اس نے لی انگڑائی
بادل گرجا، بارش آئی
ساجن اب تو میرا ہو جا
تیرے نام کی دیگ چڑھائی
پہلے اس کا نام لیا تھا
بعد میں اپنی غزل سنائی
تختی دوات چھوڑ کے ٹھیلہ لگا لیا
بیٹے نے گھر چلانے کا بیڑہ اٹھا لیا
تنہائی مجھ کو مارنے والی تھی اور پھر
دل نے تمہاری یاد کا میلہ سجا لیا
پہلے تو اس کو دور سے میں دیکھتا رہا
پھر ایک روز چاند کو چھت پر بلا لیا
زلفِ جاناں کو سنواریں گے چلے جائیں گے
روز و شب یونہی گزاریں گے چلے جائیں گے
کون سمجھے گا مِرے کرب کی گہرائی کو
لوگ پنکھے سے اتاریں گے چلے جائیں گے
آپ کے حسن کو ہم ماند نہ پڑنے دیں گے
خونِ دل دے کے نکھاریں گے چلے جائیں گے
کیسے کہہ دوں کہ اذیت کے لیے ہوتی ہے
خلِشِ قلب تو راحت کے لیے ہوتی ہے
پہلے ہوتی تھی محبت کی ضرورت سب کو
اب محبت بھی ضرورت کے لیے ہوتی ہے
اس کی تضحیک نہ کی جائے کسی صورت بھی
یار! عورت تو محبت کے لیے ہوتی ہے
تُو نے صورت دکھائی کافی ہے
آگ دل کی بجھائی، کافی ہے
میرے ملبے سے کچھ نہیں ملنا
یار! اتنی کھدائی کافی ہے
اس سے آگے نہ پوچھنا مجھ سے
بات جتنی بتائی، کافی ہے
درد بڑھ جائے تو یادوں کی دوا لیتا ہے
ماں کے آنچل سے وہ جنت کی ہوا لیتا ہے
یہ تیرا عشق نہیں ہے نظر کا دھوکا ہے
عشق تو نار کو گلزار بنا لیتا ہے
ہائے وہ شخص بلا کا طریر ہے صاحب
روٹھ جاتا ہوں تو سینے سے لگا لیتا ہے