Showing posts with label منیر انجم. Show all posts
Showing posts with label منیر انجم. Show all posts

Monday, 1 January 2024

کوئی نہیں جو نکلتے ہوئے کہے گھر سے

 کوئی نہیں جو نکلتے ہوئے کہے گھر سے

خدا بچائے تجھے حاسدین کے شر سے

میں ماں کی قبر پہ جا کر سلام کرتا ہوں

تو مجھ کو تھامنے آتے ہیں ہاتھ اندر سے

ہوا جو عشق میں ناکام، تو کہا خود سے

خدا کا شکر کہ یہ بھی بلا ٹلی سر سے

Tuesday, 9 August 2022

قضا کی تیغ سے کنبے کو کیوں بچائے حسین

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین


قضا کی تیغ سے کنبے کو کیوں بچائے حسینؑ

کہ جو رضائے خدا ہے، وہی رضائے حسینؑ

کچھ اس طرح سے تعارف ہے میرا لوگوں میں

یہ خاک پائے علیؑ ہے،۔ یہ خاک پائے حسینؑ

ذرا نہ خوف نکیرین کا مجھے ہو گا

مِرے کفن پہ یہ لکھنا کہ ہے گدائے حسینؑ

Tuesday, 19 July 2022

تم کو لگتا ہے محبت سے نکل آئے تھے

 تم کو لگتا ہے محبت سے نکل آئے تھے

ہم تو یک طرفہ اذیت سے نکل آئے تھے

کتنا پُر سوز تھا منظر وہ جدائی والا

اشک آنکھوں کی حراست سے نکل آئے تھے

میں نکل آیا تھا کچھ خوابوں کے پیچھے پیچھے

اور پھر خواب حقیقت سے نکل آئے تھے

Saturday, 2 July 2022

تمہیں خبر ہے یہ زندگی فلم ہے

 انجماد


تمہیں خبر ہے

یہ زندگی فلم ہے جسے اک  پروڈیوسر  نے لکھ دیا ہے

تمہیں خبر ہے

میں تم سے ملنے سے پہلے تم سے 

ان آسمانوں میں مل چکا تھا

Sunday, 24 April 2022

جب بھی اس نے لی انگڑائی

جب بھی اس نے لی انگڑائی

بادل گرجا، بارش آئی

ساجن اب تو میرا ہو جا

تیرے نام کی دیگ چڑھائی

پہلے اس کا نام لیا تھا

بعد میں اپنی غزل سنائی

Friday, 15 October 2021

تختی دوات چھوڑ کے ٹھیلہ لگا لیا

 تختی دوات چھوڑ کے ٹھیلہ لگا لیا

بیٹے نے گھر چلانے کا بیڑہ اٹھا لیا

تنہائی مجھ کو مارنے والی تھی اور پھر

دل نے تمہاری یاد کا میلہ سجا لیا

پہلے تو اس کو دور سے میں دیکھتا رہا

پھر ایک روز چاند کو چھت پر بلا لیا

Wednesday, 13 October 2021

زلف جاناں کو سنواریں گے چلے جائیں گے

 زلفِ جاناں کو سنواریں گے چلے جائیں گے

روز و شب یونہی گزاریں گے چلے جائیں گے

کون سمجھے گا مِرے کرب کی گہرائی کو

لوگ پنکھے سے اتاریں گے چلے جائیں گے

آپ کے حسن کو ہم ماند نہ پڑنے دیں گے

خونِ دل دے کے نکھاریں گے چلے جائیں گے

Tuesday, 12 October 2021

کیسے کہہ دوں کہ اذیت کے لیے ہوتی ہے

 کیسے کہہ دوں کہ اذیت کے لیے ہوتی ہے

خلِشِ قلب تو راحت کے لیے ہوتی ہے

پہلے ہوتی تھی محبت کی ضرورت سب کو

اب محبت بھی ضرورت کے لیے ہوتی ہے

اس کی تضحیک نہ کی جائے کسی صورت بھی

یار! عورت تو محبت کے لیے ہوتی ہے

Monday, 11 October 2021

تو نے صورت دکھائی کافی ہے

 تُو نے صورت دکھائی کافی ہے

آگ دل کی بجھائی، کافی ہے

میرے ملبے سے کچھ نہیں ملنا

یار! اتنی کھدائی کافی ہے

اس سے آگے نہ پوچھنا مجھ سے

بات جتنی بتائی، کافی ہے

Monday, 19 July 2021

درد بڑھ جائے تو یادوں کی دوا لیتا ہے

 درد بڑھ جائے تو یادوں کی دوا لیتا ہے

ماں کے آنچل سے وہ جنت کی ہوا لیتا ہے

یہ تیرا عشق نہیں ہے نظر کا دھوکا ہے

عشق تو نار کو گلزار بنا لیتا ہے

ہائے وہ شخص بلا کا طریر ہے صاحب

روٹھ جاتا ہوں تو سینے سے لگا لیتا ہے