عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین
قضا کی تیغ سے کنبے کو کیوں بچائے حسینؑ
کہ جو رضائے خدا ہے، وہی رضائے حسینؑ
کچھ اس طرح سے تعارف ہے میرا لوگوں میں
یہ خاک پائے علیؑ ہے،۔ یہ خاک پائے حسینؑ
ذرا نہ خوف نکیرین کا مجھے ہو گا
مِرے کفن پہ یہ لکھنا کہ ہے گدائے حسینؑ
سلام جونہی ہوا، داد دی فرشتوں نے
سلام جونہی پڑھا، سن کے مسکرائے حسینؑ
میں چاہتا ہوں کہ طیبہ بھی جاؤں کربل بھی
یہاں برائے محمدﷺ وہاں برائے حسینؑ
یہ بغض، فرقہ پرستی، یہ ذاکر و مُلا
بھلا کے بیٹھ گئے ہیں سبھی ندائے حسینؑ
یہ شعر گوئی،یہ عزت یہ تیرا نام منیر
تِرا کمال نہیں، ہے یہ سب عطائے حسینؑ
منیر انجم
No comments:
Post a Comment