افسانۂ حیات پریشاں کے ساتھ ساتھ
دنیا بدل گئی غم پنہاں کے ساتھ ساتھ
بیتابئ حیات میں آسودگی بھی تھی
کچھ تیرا غم بھی تھا غم دوراں کے ساتھ ساتھ
اب میرے ساتھ ان کی نظر بھی ہے بے قرار
نشتر تڑپ رہے ہیں رگِ جاں کے ساتھ ساتھ
افسانۂ حیات پریشاں کے ساتھ ساتھ
دنیا بدل گئی غم پنہاں کے ساتھ ساتھ
بیتابئ حیات میں آسودگی بھی تھی
کچھ تیرا غم بھی تھا غم دوراں کے ساتھ ساتھ
اب میرے ساتھ ان کی نظر بھی ہے بے قرار
نشتر تڑپ رہے ہیں رگِ جاں کے ساتھ ساتھ
محرومی کے دکھ اور تنہائی کے رنج اٹھائے
لیکن ہم کو آج بھی جھوٹا پیار نہ کرنا آئے
سیلِ غم! دنیا نے دل سے کیا کیا نقش مٹائے
ہجر کی راتوں میں اب تیری شکل بھی یاد نہ آئے
تنہائی کا سناٹا، اور آتی جاتی راتیں
تیری یاد نہ اور کوئی غم پھر بھی نیند نہ آئے
لائی نہ صبا بُوئے چمن اب کے برس بھی
کچھ سوچ کے خاموش ہیں یاران قفس بھی
دستور محبت ہی نہیں جاں سے گزرنا
کر لیتے ہیں یہ کام کبھی اہل ہوس بھی
نازک ہیں مراحل سفر منزل غم کے
اس راہ میں کھو جاتی ہے آواز جرس بھی
تِرا خیال بھی ہے وضعِ غم کا پاس بھی ہے
مگر یہ بات کہ دنیا نظر شناس بھی ہےِ
بہارِ صبحِ ازل پھر گئی نگاہوں میں
وہی فضا تِرے کوچہ کے آس پاس بھی ہے
جو ہو سکے تو چلے آؤ آج میری طرف
ملے بھی دیر ہوئی اور جی اداس بھی ہے
نیم شب آتشِ فریادِ اسیراں روشن
دھوپ سی پھیل رہی ہے سرِ دیوارِ چمن
یا تِرے قرب کی یہ ساعت افسردہ ہے
یا کبھی تیرے تصور سے سلگتا تھا بدن
دل جلے روئے ہیں شاید کہیں پھر آخرِ شب
بھیگا بھیگا ہے نسیمِ سحری کا دامن
یہ اور بات ہے کہ مداوائے غم نہ تھا
لیکن تِرا خلوص توقع سے کم نہ تھا
کیا کیا فراغتیں تھیں میسر حیات کو
وہ دن بھی تھے کہ تیرے سوا کوئی غم نہ تھا
کچھ ہم گرفتِ گردشِ دوراں میں آ گئے
کچھ دل بھی تیرے عشق میں ثابت قدم نہ تھا