Showing posts with label عظیم مرتضیٰ. Show all posts
Showing posts with label عظیم مرتضیٰ. Show all posts

Saturday, 2 October 2021

افسانۂ حیات پریشاں کے ساتھ ساتھ

 افسانۂ حیات پریشاں کے ساتھ ساتھ

دنیا بدل گئی غم پنہاں کے ساتھ ساتھ

بیتابئ حیات میں آسودگی بھی تھی

کچھ تیرا غم بھی تھا غم دوراں کے ساتھ ساتھ

اب میرے ساتھ ان کی نظر بھی ہے بے قرار

نشتر تڑپ رہے ہیں رگِ جاں کے ساتھ ساتھ

Thursday, 30 September 2021

محرومی کے دکھ اور تنہائی کے رنج اٹھائے

 محرومی کے دکھ اور تنہائی کے رنج اٹھائے

لیکن ہم کو آج بھی جھوٹا پیار نہ کرنا آئے

سیلِ غم! دنیا نے دل سے کیا کیا نقش مٹائے

ہجر کی راتوں میں اب تیری شکل بھی یاد نہ آئے

تنہائی کا سناٹا، اور آتی جاتی راتیں

تیری یاد نہ اور کوئی غم پھر بھی نیند نہ آئے

Tuesday, 28 September 2021

لائی نہ صبا بوئے چمن اب کے برس بھی

لائی نہ صبا بُوئے چمن اب کے برس بھی 

کچھ سوچ کے خاموش ہیں یاران قفس بھی 

دستور محبت ہی نہیں جاں سے گزرنا 

کر لیتے ہیں یہ کام کبھی اہل ہوس بھی 

نازک ہیں مراحل سفر منزل غم کے 

اس راہ میں کھو جاتی ہے آواز جرس بھی 

Thursday, 16 September 2021

ترا خیال بھی ہے وضع غم کا پاس بھی ہے

 تِرا خیال بھی ہے وضعِ غم کا پاس بھی ہے

مگر یہ بات کہ دنیا نظر شناس بھی ہےِ

بہارِ صبحِ ازل پھر گئی نگاہوں میں

وہی فضا تِرے کوچہ کے آس پاس بھی ہے

جو ہو سکے تو چلے آؤ آج میری طرف

ملے بھی دیر ہوئی اور جی اداس بھی ہے

Wednesday, 9 June 2021

نیم شب آتش فریاد اسیراں روشن

 نیم شب آتشِ فریادِ اسیراں روشن

دھوپ سی پھیل رہی ہے سر‌ِ دیوارِ چمن

یا تِرے قرب کی یہ ساعت افسردہ ہے

یا کبھی تیرے تصور سے سلگتا تھا بدن

دل جلے روئے ہیں شاید کہیں پھر آخرِ شب

بھیگا بھیگا ہے نسیمِ سحری کا دامن

Wednesday, 24 March 2021

یہ اور بات ہے کہ مداوائے غم نہ تھا

 یہ اور بات ہے کہ مداوائے غم نہ تھا

لیکن تِرا خلوص توقع سے کم نہ تھا

کیا کیا فراغتیں تھیں میسر حیات کو

وہ دن بھی تھے کہ تیرے سوا کوئی غم نہ تھا

کچھ ہم گرفتِ گردشِ دوراں میں آ گئے

کچھ دل بھی تیرے عشق میں ثابت قدم نہ تھا