ندی کے دل فریب بہاؤ میں آ گئے
ہم سادہ لوگ تھے، تِرے داؤ میں آ گئے
دو چار دن کا ہجر گزارا ہے میں نے بھی
دو چار دن بھی ذہنی تناؤ میں آ گئے
وہ چاہتے نہیں تھے پرندوں کو بھیجنا
آندھی چلی تو پیڑ دباؤ میں آ گئے
ندی کے دل فریب بہاؤ میں آ گئے
ہم سادہ لوگ تھے، تِرے داؤ میں آ گئے
دو چار دن کا ہجر گزارا ہے میں نے بھی
دو چار دن بھی ذہنی تناؤ میں آ گئے
وہ چاہتے نہیں تھے پرندوں کو بھیجنا
آندھی چلی تو پیڑ دباؤ میں آ گئے
موسم وصل کے امکان میں رکھے ہوئے ہیں
کچھ حسیں لوگ مرے دھیان میں رکھے ہوئے ہیں
کون کیا سوچتا ، کیا کرتا ہے کیسے جانیں؟
کچھ الگ سلسلے انسان میں رکھے ہوئے ہیں
صوفی جس مستی میں تُو ناچتا، اتراتا ہے
رقص یہ سب مرے وجدان میں رکھے ہوئے ہیں