Showing posts with label قمر ریاض. Show all posts
Showing posts with label قمر ریاض. Show all posts

Tuesday, 30 March 2021

ندی کے دلفریب بہاؤ میں آ گئے

 ندی کے دل فریب بہاؤ میں آ گئے

ہم سادہ لوگ تھے، تِرے داؤ میں آ گئے

دو چار دن کا ہجر گزارا ہے میں نے بھی

دو چار دن بھی ذہنی تناؤ میں آ گئے

وہ چاہتے نہیں تھے پرندوں کو بھیجنا

آندھی چلی تو پیڑ دباؤ میں آ گئے

Wednesday, 18 November 2020

موسم وصل کے امکان میں رکھے ہوئے ہیں

 موسم وصل کے امکان میں رکھے ہوئے ہیں

کچھ حسیں لوگ مرے دھیان میں رکھے ہوئے ہیں

کون کیا سوچتا ، کیا کرتا ہے کیسے جانیں؟

کچھ الگ سلسلے انسان میں رکھے ہوئے ہیں

صوفی جس مستی میں تُو ناچتا، اتراتا ہے

رقص یہ سب مرے وجدان میں رکھے ہوئے ہیں

Wednesday, 15 July 2020

ہنسنے سے ہوا ہے نہ یہ رونے سے ہوا ہے

ہنسنے سے ہوا ہے نہ یہ رونے سے ہوا ہے
دل اتنا حزیں عشق میں کھونے سے ہوا ہے
ممکن ہے کہ پورا ہو یہ دو چار برس میں
نقصان جو دنیا کا 'کرونے' سے ہوا ہے
بکھرے ہیں مِرے بال مِری شیو بڑھی ہے
یہ حال مسلسل مِرے سونے سے ہوا ہے

Sunday, 12 November 2017

طلسم خواب میں خوف بلا سے کچھ نہیں ہو گا

طلسم خواب میں خوفِ بلا سے کچھ نہیں ہو گا
سزا سے اور فقط میری سزا سے کچھ نہیں ہو گا
تم اپنے گھر کے دروازے ہمیشہ بند ہی رکھنا
ہوا جیسی بھی ہو پیارے ہوا سے کچھ نہیں ہو گا
کوئی بھی بات ہو کیسی بھی ہو وہ کچھ نہیں ہوتی
ہمارے شہر میں اونچی صدا سے کچھ نہیں ہو گا

Sunday, 27 November 2016

فصیل جاں میں دریچہ لگانے والا ہوں

فصیلِ جاں میں دریچہ لگانے والا ہوں
میں تجھ سے اور تعلق بڑھانے والا ہوں
تِرے لیے مجھے لاہور سے محبت ہے
یہ بات سارے جہاں کو بتانے والا ہوں
سہیلیوں میں سنائے گی تُو غزل میری
گٹار پر میں جسے گنگنانے والا ہوں

یہ جو چڑیوں نے بہت شور مچایا ہوا ہے

یہ جو چڑیوں نے بہت شور مچایا ہوا ہے
ایسا لگتا ہے کہ ملنے کوئی آیا ہوا ہے
میرے گھر میں تِری آوازیں ہیں پھیلی مِری جاں
یہاں میلہ تِری یادوں نے لگایا ہوا ہے
یہ جو تم قصہ محبت کا سناتے ہو مجھے
وہی قصہ ہے کہ جو میرا سنایا ہوا ہے

نہ جانے کیا بات ہے کہ جس پر اڑا ہوا ہوں

نہ جانے کیا بات ہے کہ جس پر اڑا ہوا ہوں
میں آج کل اپنے آپ سے بھی لڑا ہوا ہوں
تُو کتنی صدیوں سے چھوڑ کر جا چکا ہے مجھ کو
مگر میں تیرے ہی راستے میں پڑا ہوا ہوں
کبھی جو موسم سے ہار جاؤ، تو لوٹ آنا
کہ میں تناور شجر وہیں پر کھڑا ہوا ہوں

Friday, 11 November 2016

مت نگاہیں جھکا کےمجھ سے ملو

مت نگاہیں جھکا کےمجھ سے ملو
آنکھ ہے تو ملا کے مجھ سے ملو
چند باتیں، ادھار ہیں تم پر
آخری بار آ کے مجھ سے ملو
گجرے لایا ہوں میں تمہارے لیے
آج خود کو سجا کے مجھ سے ملو

وہ تختیاں قلم دوات کیا ہوئے

وہ تختیاں، قلم، دوات، کیا ہوئے 
رہے جو بچپنے میں ساتھ، کیا ہوئے
وہ جن کو چھوتے ہی مہک اٹھی تھی سانس
وہ خوشبوؤں سے تیرے ہاتھ، کیا ہوئے 
ندی کنارے سارے پیڑ کٹ گئے
جو ڈھونڈتے تھے سوکھے پات، کیا ہوئے

میں نے اک بار محبت کی ہے

میں نے اک بار محبت کی ہے 
پھر، لگا تار محبت کی ہے
پڑھ مِرا چہرہ مجھے غور سے دیکھ 
میں نے اے یار! محبت کی ہے
اس کی نسلیں بھی سنور جاتی ہیں 
جس نے سرکار! محبت کی ہے