Showing posts with label اطہر شاہ جیدی. Show all posts
Showing posts with label اطہر شاہ جیدی. Show all posts

Sunday, 18 September 2022

یہی نہیں کہ کلائی میری مروڑ گئے

 یہی نہیں کہ کلائی میری مروڑ گئے

شبِ وصال وہ پسلی بھی ایک توڑ گئے

جبھی تو ان کی عیادت سے دل ہوا کھٹا

وہ ایک لیموں میرے زخم پر نچوڑ گئے

انہیں بنایا تھا مہمان ایک شب کے لیے

وہ سارے بکسے اور الماریاں کھکھوڑ گئے

Tuesday, 6 September 2022

یوں نہیں محبوب کو غزلیں سنانا چاہیے

 یوں نہیں محبوب کو غزلیں سنانا چاہیے

پہلے اس کو شاعری سے ذوقیانہ چاہیے

آپ محفل میں کھڑی ہیں، نام لیں سیدھی طرح

بھائی کہنا ہو تو گھر سے بھائی لانا چاہیے

ہو کلائی آپ کی اور سر ہمارا اس پہ ہو

شاخِ نازک پہ ہمیں اک آشیانہ چاہیے

Friday, 2 September 2022

وہ مجھے درس عشق کا پورا نصاب دے گیا

 وہ مجھے درسِ عشق کا پورا نصاب دے گیا

آدھے ورق دریدہ تھے، ایسی کتاب دے گیا

دیکھیں گے اس کو روبرو تھی یہی ایک آرزو

ملنا جو دو گھڑی کا تھا، کتنے عذاب دے گیا

وہ جو تھے رشک دلبراں اب ہیں شریکِ امتحاں

آئینہ اک سوال ہے،۔ چہرہ جواب دے گیا

Wednesday, 16 February 2022

یہ تری زلف کا کنڈل تو مجھے مار چلا

 یہ تری زلف کا کنڈل تو مجھے مار چلا

جس پہ قانون بھی لاگو ہو وہ ہتھیار چلا

پیٹ ہی پھول گیا اتنے خمیرے کھا کر

تیری حکمت نہ چلی اور تِرا بیمار چلا

بیویاں چار ہیں اور پھر بھی حسینوں سے شغف

بھائی تو بیٹھ کے آرام سے گھر بار چلا

Friday, 4 February 2022

کھڑے کھڑے مسکرارہا ہوں تو میری مرضی

 کھڑے کھڑے مسکرارہا ہوں تو میری مرضی

لطیفہ خود کو سُنا رہا ہوں تو میری مرضی

میں جلد بازی میں کوٹ اُلٹا پہن کے نکلا

اب آ رہا ہوں کہ جا رہا ہوں تو میری مرضی

جو تُم ہو مہماں تو کیوں نہ آئے مٹھائی لے کر

بٹھا کے تُم کو اُٹھا رہا ہوں تو میری مرضی