یہی نہیں کہ کلائی میری مروڑ گئے
شبِ وصال وہ پسلی بھی ایک توڑ گئے
جبھی تو ان کی عیادت سے دل ہوا کھٹا
وہ ایک لیموں میرے زخم پر نچوڑ گئے
انہیں بنایا تھا مہمان ایک شب کے لیے
وہ سارے بکسے اور الماریاں کھکھوڑ گئے
یہی نہیں کہ کلائی میری مروڑ گئے
شبِ وصال وہ پسلی بھی ایک توڑ گئے
جبھی تو ان کی عیادت سے دل ہوا کھٹا
وہ ایک لیموں میرے زخم پر نچوڑ گئے
انہیں بنایا تھا مہمان ایک شب کے لیے
وہ سارے بکسے اور الماریاں کھکھوڑ گئے
یوں نہیں محبوب کو غزلیں سنانا چاہیے
پہلے اس کو شاعری سے ذوقیانہ چاہیے
آپ محفل میں کھڑی ہیں، نام لیں سیدھی طرح
بھائی کہنا ہو تو گھر سے بھائی لانا چاہیے
ہو کلائی آپ کی اور سر ہمارا اس پہ ہو
شاخِ نازک پہ ہمیں اک آشیانہ چاہیے
وہ مجھے درسِ عشق کا پورا نصاب دے گیا
آدھے ورق دریدہ تھے، ایسی کتاب دے گیا
دیکھیں گے اس کو روبرو تھی یہی ایک آرزو
ملنا جو دو گھڑی کا تھا، کتنے عذاب دے گیا
وہ جو تھے رشک دلبراں اب ہیں شریکِ امتحاں
آئینہ اک سوال ہے،۔ چہرہ جواب دے گیا
یہ تری زلف کا کنڈل تو مجھے مار چلا
جس پہ قانون بھی لاگو ہو وہ ہتھیار چلا
پیٹ ہی پھول گیا اتنے خمیرے کھا کر
تیری حکمت نہ چلی اور تِرا بیمار چلا
بیویاں چار ہیں اور پھر بھی حسینوں سے شغف
بھائی تو بیٹھ کے آرام سے گھر بار چلا
کھڑے کھڑے مسکرارہا ہوں تو میری مرضی
لطیفہ خود کو سُنا رہا ہوں تو میری مرضی
میں جلد بازی میں کوٹ اُلٹا پہن کے نکلا
اب آ رہا ہوں کہ جا رہا ہوں تو میری مرضی
جو تُم ہو مہماں تو کیوں نہ آئے مٹھائی لے کر
بٹھا کے تُم کو اُٹھا رہا ہوں تو میری مرضی