Showing posts with label آصف ثاقب. Show all posts
Showing posts with label آصف ثاقب. Show all posts

Saturday, 19 August 2023

نیند کی آغوش میں چھپ کر سمٹنا خواب سا

 نیند کی آغوش میں چھپ کر سمٹنا خواب سا

اور باہوں میں کسی کا وہ مچلنا خواب سا

جب دہلتی دھوپ میں جلنے لگا سایہ مِرا

چھاؤں میں آنچل کے لے کر، تیرا چلنا خواب سا

ظلمتوں سے ہو چلی تھی جب شناسائی مِری

روشنی کی اک کرن کا پھر تڑپنا خواب سا

Thursday, 25 May 2023

غزل میں درد کا جادو مجھی کو ہونا تھا

 غزل میں درد کا جادو مجھی کو ہونا تھا

کہ دشت عشق میں باہو مجھی کو ہونا تھا

اسے تو چاند بھی بے چارگی میں چھوڑ گیا

اندھیری رات کا جگنو مجھی کو ہونا تھا

ذرا سی بات پہ یہ جوگ کون لیتا ہے

تمہارے پیار میں سادھو مجھی کو ہونا تھا

Saturday, 20 May 2023

اوجھل ہوئی نظر سے بے بال و پر گئی ہے

 اوجھل ہوئی نظر سے بے بال و پر گئی ہے

لفظوں کی بیکرانی بستوں میں بھر گئی ہے

دیوار دل پہ اب تک ہم دیکھتے رہے ہیں

تصویر کس کی لٹکی کس کی اتر گئی ہے

اس کی گلی میں ہم پر پتھر برس پڑے تھے

جیسا گزر ہوا تھا، ویسی گزر گئی ہے

Wednesday, 3 May 2023

دل کی موجوں کی تڑپ میری صدا میں آئے

  دل کی موجوں کی تڑپ میری صدا میں آئے

دائرے کرب کے پھیلے تو ہوا میں آئے

میرے ہاتھوں ہی نے آئینہ دکھایا تھا مجھے

کتنے مشکل تھے تقاضے جو دعا میں آئے

ہم غریبی میں بھی معیارِ سفر رکھتے ہیں

گرتے پڑتے ہی سہی، اپنی انا میں آئے

Tuesday, 18 October 2022

نمو کی خاک سے اٹھے گا پھر لہو میرا

 نمو کی خاک سے اٹھے گا پھر لہو میرا 

عقب سے وار کرے چاہے جنگجو میرا 

لکیر کھینچ کے مجھ پہ وہ پھر مجھے دیکھے 

نگار و نقش میں چہرہ ہے ہو بہو میرا 

رقیب تشنہ تو جی بھر کے خاک چاٹے گا 

چٹخ کے ٹوٹ گیا ہاتھ میں سبُو میرا 

Tuesday, 20 April 2021

نظر کا سلسلہ دیکھا ہے ہم نے

 نظر کا سلسلہ دیکھا ہے ہم نے

تمہارا دیکھنا دیکھا ہے ہم نے

ہم اپنا حوصلہ تو ہار بیٹھے

تمہارا حوصلہ دیکھا ہے ہم نے

تمہارا عکس دیکھا شاعری میں

کوئی تو دوسرا دیکھا ہے ہم نے