نیند کی آغوش میں چھپ کر سمٹنا خواب سا
اور باہوں میں کسی کا وہ مچلنا خواب سا
جب دہلتی دھوپ میں جلنے لگا سایہ مِرا
چھاؤں میں آنچل کے لے کر، تیرا چلنا خواب سا
ظلمتوں سے ہو چلی تھی جب شناسائی مِری
روشنی کی اک کرن کا پھر تڑپنا خواب سا
نیند کی آغوش میں چھپ کر سمٹنا خواب سا
اور باہوں میں کسی کا وہ مچلنا خواب سا
جب دہلتی دھوپ میں جلنے لگا سایہ مِرا
چھاؤں میں آنچل کے لے کر، تیرا چلنا خواب سا
ظلمتوں سے ہو چلی تھی جب شناسائی مِری
روشنی کی اک کرن کا پھر تڑپنا خواب سا
غزل میں درد کا جادو مجھی کو ہونا تھا
کہ دشت عشق میں باہو مجھی کو ہونا تھا
اسے تو چاند بھی بے چارگی میں چھوڑ گیا
اندھیری رات کا جگنو مجھی کو ہونا تھا
ذرا سی بات پہ یہ جوگ کون لیتا ہے
تمہارے پیار میں سادھو مجھی کو ہونا تھا
اوجھل ہوئی نظر سے بے بال و پر گئی ہے
لفظوں کی بیکرانی بستوں میں بھر گئی ہے
دیوار دل پہ اب تک ہم دیکھتے رہے ہیں
تصویر کس کی لٹکی کس کی اتر گئی ہے
اس کی گلی میں ہم پر پتھر برس پڑے تھے
جیسا گزر ہوا تھا، ویسی گزر گئی ہے
دل کی موجوں کی تڑپ میری صدا میں آئے
دائرے کرب کے پھیلے تو ہوا میں آئے
میرے ہاتھوں ہی نے آئینہ دکھایا تھا مجھے
کتنے مشکل تھے تقاضے جو دعا میں آئے
ہم غریبی میں بھی معیارِ سفر رکھتے ہیں
گرتے پڑتے ہی سہی، اپنی انا میں آئے
نمو کی خاک سے اٹھے گا پھر لہو میرا
عقب سے وار کرے چاہے جنگجو میرا
لکیر کھینچ کے مجھ پہ وہ پھر مجھے دیکھے
نگار و نقش میں چہرہ ہے ہو بہو میرا
رقیب تشنہ تو جی بھر کے خاک چاٹے گا
چٹخ کے ٹوٹ گیا ہاتھ میں سبُو میرا
نظر کا سلسلہ دیکھا ہے ہم نے
تمہارا دیکھنا دیکھا ہے ہم نے
ہم اپنا حوصلہ تو ہار بیٹھے
تمہارا حوصلہ دیکھا ہے ہم نے
تمہارا عکس دیکھا شاعری میں
کوئی تو دوسرا دیکھا ہے ہم نے