Showing posts with label غوثیہ سبین. Show all posts
Showing posts with label غوثیہ سبین. Show all posts

Thursday, 20 January 2022

دعویٰ ہے میرا اتنا خسارہ نہیں ہوتا

 دعویٰ ہے میرا اتنا خسارہ نہیں ہوتا

حق میرا اگر آپ نے مارا نہیں ہوتا

میں دور بہت دور نکل جاتی یہاں سے

اے کاش، اگر تم نے پکارا نہیں ہوتا

شامل کوئی سازش میں میرا اپنا رہا ہے

لشکر میرا ورنہ کبھی ہارا نہیں ہوتا

Wednesday, 5 May 2021

پیا خموش ہے میرا بہت گم سم بہت خموش ہے

 پیا خموش ہے میرا


بہت گُم سُم بہت خموش ہے

وہ چند عرصے سے

سمجھ میں کچھ نہیں آتا

کہ آخر ماجرا کیا ہے

وہی موسم ،وہی چاہت

Monday, 3 May 2021

چل دیا ناز زمانے کے اٹھانے والا

 چل دیا ناز زمانے کے اٹھانے والا

سارے گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا

آنکھ پُر نم ہے یہی سوچ کے اہلِ دل کی

لوٹ کر اب نہیں آئے گا ہنسانے والا

بات تو کرتے ہیں سب لوگ وفا کی، لیکن

کس نے دیکھا ہے کہاں پر ہے نبھانے والا

Sunday, 2 May 2021

مختصر سی بات کو بھی مسئلہ کہتے رہے

 مختصر سی بات کو بھی مسئلہ کہتے رہے

زندگی میں آپ کو کیوں رہنما کہتے رہے

بے وفا ہونے کا فتویٰ دے دیا ان نے ہمیں

عمر بھر جن کے ستم کو ہم وفا کہتے رہے

کر دیا مسمار ان نے ایک پل میں قصر دل

جن کے خستہ گھر کو بھی ہم خوشنما کہتے رہے

Saturday, 9 January 2021

آندھی میں بھی چراغ مگن ہے صبا کے ساتھ

 آندھی میں بھی چراغ مگن ہے صبا کے ساتھ

لگتا ہے ساز باز ہوئی ہے ہوا کے ساتھ

لب پر خدا کا نام ہو دل میں وطن کا درد

نکلے بدن سے روح مِری اس ادا کے ساتھ

ان کو بہت غرور تھا اپنی جفاؤں پر

ہم بھی وہیں اڑے رہے اپنی وفا کے ساتھ

Friday, 8 January 2021

آنکھوں میں حیا رکھ کے بھی بے باک بہت تھے

 آنکھوں میں حیا رکھ کے بھی بیباک بہت تھے

تھے تیرے گنہ گار مگر پاک بہت تھے

میں اپنا سمجھتی رہی ارباب‌ وفا کو

وہ غیر سے ملتے رہے چالاک بہت تھے

یہ بھی کوئی الفت کا طریقہ ہے جہاں میں

رہ رہ کے جلے ہجر میں ہم خاک بہت تھے