دعویٰ ہے میرا اتنا خسارہ نہیں ہوتا
حق میرا اگر آپ نے مارا نہیں ہوتا
میں دور بہت دور نکل جاتی یہاں سے
اے کاش، اگر تم نے پکارا نہیں ہوتا
شامل کوئی سازش میں میرا اپنا رہا ہے
لشکر میرا ورنہ کبھی ہارا نہیں ہوتا
دعویٰ ہے میرا اتنا خسارہ نہیں ہوتا
حق میرا اگر آپ نے مارا نہیں ہوتا
میں دور بہت دور نکل جاتی یہاں سے
اے کاش، اگر تم نے پکارا نہیں ہوتا
شامل کوئی سازش میں میرا اپنا رہا ہے
لشکر میرا ورنہ کبھی ہارا نہیں ہوتا
پیا خموش ہے میرا
بہت گُم سُم بہت خموش ہے
وہ چند عرصے سے
سمجھ میں کچھ نہیں آتا
کہ آخر ماجرا کیا ہے
وہی موسم ،وہی چاہت
چل دیا ناز زمانے کے اٹھانے والا
سارے گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا
آنکھ پُر نم ہے یہی سوچ کے اہلِ دل کی
لوٹ کر اب نہیں آئے گا ہنسانے والا
بات تو کرتے ہیں سب لوگ وفا کی، لیکن
کس نے دیکھا ہے کہاں پر ہے نبھانے والا
مختصر سی بات کو بھی مسئلہ کہتے رہے
زندگی میں آپ کو کیوں رہنما کہتے رہے
بے وفا ہونے کا فتویٰ دے دیا ان نے ہمیں
عمر بھر جن کے ستم کو ہم وفا کہتے رہے
کر دیا مسمار ان نے ایک پل میں قصر دل
جن کے خستہ گھر کو بھی ہم خوشنما کہتے رہے
آندھی میں بھی چراغ مگن ہے صبا کے ساتھ
لگتا ہے ساز باز ہوئی ہے ہوا کے ساتھ
لب پر خدا کا نام ہو دل میں وطن کا درد
نکلے بدن سے روح مِری اس ادا کے ساتھ
ان کو بہت غرور تھا اپنی جفاؤں پر
ہم بھی وہیں اڑے رہے اپنی وفا کے ساتھ
آنکھوں میں حیا رکھ کے بھی بیباک بہت تھے
تھے تیرے گنہ گار مگر پاک بہت تھے
میں اپنا سمجھتی رہی ارباب وفا کو
وہ غیر سے ملتے رہے چالاک بہت تھے
یہ بھی کوئی الفت کا طریقہ ہے جہاں میں
رہ رہ کے جلے ہجر میں ہم خاک بہت تھے