Sunday, 2 May 2021

مختصر سی بات کو بھی مسئلہ کہتے رہے

 مختصر سی بات کو بھی مسئلہ کہتے رہے

زندگی میں آپ کو کیوں رہنما کہتے رہے

بے وفا ہونے کا فتویٰ دے دیا ان نے ہمیں

عمر بھر جن کے ستم کو ہم وفا کہتے رہے

کر دیا مسمار ان نے ایک پل میں قصر دل

جن کے خستہ گھر کو بھی ہم خوشنما کہتے رہے

ہر گھڑی ہر وقت ہر پل ہر جگہ بے خوف ہم

وہ ہمارے تھے، ہمارے ہیں، سدا کہتے رہے

دھیرے دھیرے چل دئیے اس راہ پر ہم بھی سبین

رات دن سب جس کو غم کی کربلا کہتے رہے


غوثیہ سبین

No comments:

Post a Comment