آزاد تھی فطرت کے مناظر میں چبھن بھی
تابع اسی قانون کے تھا شہرِ بدن بھی
پنہاں مِرے باطن میں تھی اُس رمز کی بندش
رنگین ہے جس رمز سے کونینِ چمن بھی
آکاش سے بارش بھی پسینے کی طرح ہے
موسم کو ملا حبس، تو سینے کو گھٹن بھی
شیطان پری حور ملائک کے بھی اوصاف
دیکھے تِرے انسان میں اِن سب کے چلن بھی
عالم ہے مسافر تِرے فردوسِ بریں کا
دیتا ہے اذاں اور یہ گاتا ہے بھجن بھی
میں مصرعۂ اُولیٰ تھا کبھی تیری رضا کا
مقصود سے بھٹکا تو گیا رنگِ سخن بھی
اکرام جھکے دیکھے جو افلاک کے پشتے
یاد آئی مجھے صائمِ مکہ کی تھکن بھی
اکرام قاسمی
No comments:
Post a Comment