Showing posts with label چندر واحد. Show all posts
Showing posts with label چندر واحد. Show all posts

Saturday, 8 August 2026

صورت اتر نہ جائے کہیں ماہتاب کی

 صُورت اُتر نہ جائے کہیں ماہتاب کی

کہہ دو کہ بات جھُوٹ ہے ان کے شباب کی

شامِ وِصال سیج پہ شرمائے جُوں دُلہن

شرمائی یوں ہیں شاخ پہ کلیاں گُلاب کی

پتھر اُچھال دیجیے یوں دل کی جھیل میں

ورنہ امید رکھیے نہ مجھ سے جواب کی

Saturday, 7 March 2026

دن ڈھلا بڑھنے لگیں پرچھائیاں

 دن ڈھلا بڑھنے لگیں پرچھائیاں

پھر وہی غم پھر وہی تنہائیاں

جھلملائے جیسے لہروں پر کرن

آس لیتی دل میں یوں انگڑائیاں

پاؤں کی پازیب کے گھنگرو تھے اشک

ٹوٹنے پر بج اٹھیں شہنائیاں

Saturday, 1 June 2024

اب تو خوابوں کے ہی سہارے ہیں

 اب تو خوابوں کے ہی سہارے ہیں

یہ ہی لے دے کے اب ہمارے ہیں

اپنا سایہ تلک نہ تھا اپنا

ہم نے ایسے بھی دن گزارے ہیں

خود کو خوابوں کے مول بیچا ہے

قرض یادوں کے تب اتارے ہیں

Thursday, 30 May 2024

بازار جہالت میں سخن بیچ رہا ہوں

 بازارِ جہالت میں سخن بیچ رہا ہوں

یہ گیت، یہ نغمات یہ فن بیچ رہا ہوں

ہے کوئی خریدار تو آواز لگائے؟

روٹی کے عوِض شعر و سخن بیچ رہا ہوں

کیا دام لگاتے ہو چلو تم ہی بتاؤ؟

سچائی کا انمول رتن بیچ رہا ہوں

Monday, 16 August 2021

لمحہ وہ تیری یاد کا ایسے گزر گیا

 لمحہ وہ تیری یاد کا ایسے گزر گیا

جیسے کہ پھول شاخ سے ٹوٹا بکھر گیا 

کل چھانوْ مل سکے گی سبھی کو یہ سوچ کر 

جس نے لگائے پیڑ وہ بوڑھا کدھر گیا 

جو پتھروں کے بدلے میں دیتا تھا پھل مجھے

دورِ خزاں! بتا تو کہاں وہ شجر گیا