صُورت اُتر نہ جائے کہیں ماہتاب کی
کہہ دو کہ بات جھُوٹ ہے ان کے شباب کی
شامِ وِصال سیج پہ شرمائے جُوں دُلہن
شرمائی یوں ہیں شاخ پہ کلیاں گُلاب کی
پتھر اُچھال دیجیے یوں دل کی جھیل میں
ورنہ امید رکھیے نہ مجھ سے جواب کی
صُورت اُتر نہ جائے کہیں ماہتاب کی
کہہ دو کہ بات جھُوٹ ہے ان کے شباب کی
شامِ وِصال سیج پہ شرمائے جُوں دُلہن
شرمائی یوں ہیں شاخ پہ کلیاں گُلاب کی
پتھر اُچھال دیجیے یوں دل کی جھیل میں
ورنہ امید رکھیے نہ مجھ سے جواب کی
دن ڈھلا بڑھنے لگیں پرچھائیاں
پھر وہی غم پھر وہی تنہائیاں
جھلملائے جیسے لہروں پر کرن
آس لیتی دل میں یوں انگڑائیاں
پاؤں کی پازیب کے گھنگرو تھے اشک
ٹوٹنے پر بج اٹھیں شہنائیاں
اب تو خوابوں کے ہی سہارے ہیں
یہ ہی لے دے کے اب ہمارے ہیں
اپنا سایہ تلک نہ تھا اپنا
ہم نے ایسے بھی دن گزارے ہیں
خود کو خوابوں کے مول بیچا ہے
قرض یادوں کے تب اتارے ہیں
بازارِ جہالت میں سخن بیچ رہا ہوں
یہ گیت، یہ نغمات یہ فن بیچ رہا ہوں
ہے کوئی خریدار تو آواز لگائے؟
روٹی کے عوِض شعر و سخن بیچ رہا ہوں
کیا دام لگاتے ہو چلو تم ہی بتاؤ؟
سچائی کا انمول رتن بیچ رہا ہوں
لمحہ وہ تیری یاد کا ایسے گزر گیا
جیسے کہ پھول شاخ سے ٹوٹا بکھر گیا
کل چھانوْ مل سکے گی سبھی کو یہ سوچ کر
جس نے لگائے پیڑ وہ بوڑھا کدھر گیا
جو پتھروں کے بدلے میں دیتا تھا پھل مجھے
دورِ خزاں! بتا تو کہاں وہ شجر گیا