دن ڈھلا بڑھنے لگیں پرچھائیاں
پھر وہی غم پھر وہی تنہائیاں
جھلملائے جیسے لہروں پر کرن
آس لیتی دل میں یوں انگڑائیاں
پاؤں کی پازیب کے گھنگرو تھے اشک
ٹوٹنے پر بج اٹھیں شہنائیاں
جب نگر کی دھوپ میں جلنا پڑا
یاد آئیں گاؤں کی امرائیاں
اب بھلا تنہا کہاں میں رہ گیا
ساتھ ہیں میرے مِری رسوائیاں
چندر واحد
No comments:
Post a Comment