Saturday, 7 March 2026

دن ڈھلا بڑھنے لگیں پرچھائیاں

 دن ڈھلا بڑھنے لگیں پرچھائیاں

پھر وہی غم پھر وہی تنہائیاں

جھلملائے جیسے لہروں پر کرن

آس لیتی دل میں یوں انگڑائیاں

پاؤں کی پازیب کے گھنگرو تھے اشک

ٹوٹنے پر بج اٹھیں شہنائیاں

جب نگر کی دھوپ میں جلنا پڑا

یاد آئیں گاؤں کی امرائیاں

اب بھلا تنہا کہاں میں رہ گیا

ساتھ ہیں میرے مِری رسوائیاں


چندر واحد

No comments:

Post a Comment