Friday, 27 March 2026

ہم پیڑ کی شاخوں کو ہلانے میں لگے ہیں

 ہم پیڑ کی شاخوں کو ہلانے میں لگے ہیں

جھولی میں کوئی پھول گرانے میں لگے ہیں

کچھ میں بھی تو جینے کے بہت حق میں نہیں ہوں

کچھ دکھ بھی مرا ہاتھ بٹانے میں لگے ہیں

اُس پار کے لوگوں سے ہمیں بھی ہے عقیدت

ہم پھول نہیں اشک بہانے میں لگے ہیں

ہم کوچہ و بازار میں کاندھے پہ رکھے خواب

آواز پہ آواز لگانے میں لگے ہیں

دیوار کے اُس پار کوئی بول رہا ہے

آواز کو تصویر بنانے میں لگے ہیں

بدلا ہی نہیں اپنا چلن آج بھی ہم تو

اجداد کی رسموں کو نبھانے میں لگے ہیں


مدثر شجاعت

No comments:

Post a Comment