ہم پیڑ کی شاخوں کو ہلانے میں لگے ہیں
جھولی میں کوئی پھول گرانے میں لگے ہیں
کچھ میں بھی تو جینے کے بہت حق میں نہیں ہوں
کچھ دکھ بھی مرا ہاتھ بٹانے میں لگے ہیں
اُس پار کے لوگوں سے ہمیں بھی ہے عقیدت
ہم پھول نہیں اشک بہانے میں لگے ہیں
ہم کوچہ و بازار میں کاندھے پہ رکھے خواب
آواز پہ آواز لگانے میں لگے ہیں
دیوار کے اُس پار کوئی بول رہا ہے
آواز کو تصویر بنانے میں لگے ہیں
بدلا ہی نہیں اپنا چلن آج بھی ہم تو
اجداد کی رسموں کو نبھانے میں لگے ہیں
مدثر شجاعت
No comments:
Post a Comment