Sunday, 29 March 2026

سنا ہے تو بڑا خود دار و کم آمیز ہے ساقی

 سُنا ہے تُو بڑا خود دار و کم آمیز ہے ساقی

مگر رِندوں کو کیا پیمانہ جب لبریز ہے ساقی

نوازشیں ہیں رِند ایسی، نہ ہے تیرا لحاظ ایسا

طبیعت ہی کچھ اپنی سخت بد پرہیز ہے ساقی

سلامت ساغر و مِینا،۔ سلامت مے کدہ تیرا

برغمے بزمِ دوراں نبض اپنی تیز ہے ساقی

تِری محفل ہے تیرے میکشوں کو جنتِ ماوہ

حرم اور دیر میں تو ایک رستہ خیز ہے ساقی

کہاں جائیں یہاں سے اٹھ کے میخانے سے باہر کو

کوئی بُقراط ہے ساقی، کوئی چنگیز ہے ساقی

تِرا مجنوں تِرا مجنوں خلوت ہو کہ مجلس ہو

بزم میں ساقی و جام بستہ ویز ہے ساقی


مجنوں گورکھپوری

No comments:

Post a Comment