Sunday, 22 March 2026

اپنی اوقات زمانہ کو بتاتے آئے

 اپنی اوقات زمانہ کو بتاتے آئے

تم جدھر آئے ادھر آگ لگاتے آئے

ہم کو محفل میں تعلق کا بھرم رکھنا تھا

دشمنوں کو بھی گلے اپنے لگاتے آئے

بس یہی ان کا کرم ہم پہ بہت بھاری ہے

جب وہ آئے تو کرم اپنا جتاتے آئے

ایک آہٹ بھی ڈرا دیتی ہے تنہائی میں

خواب جب آئے ترے مجھ کو ڈراتے آئے

خود کا گھر پھوس کا ہے یاد نہیں تھا شاید

گھر میں ہمسایوں کے وہ آگ لگاتے آئے

آئینہ قد کے برابر ہو ضروری تو نہیں

ایسی چاہت میں وہ کیوں جان کھپاتے آئے


منیب مظفرپوری

No comments:

Post a Comment