Showing posts with label شاہنواز فاروقی. Show all posts
Showing posts with label شاہنواز فاروقی. Show all posts

Monday, 11 May 2026

حسن ایسا تھا کہ ہر اک آئینہ کم پڑ گیا

 حسن ایسا تھا کہ ہر اک آئینہ کم پڑ گیا

آئینہ کیا عمر بھر کا دیکھنا کم پڑ گیا

آنکھ سے کیا میں تو اپنے دل سے باہر ہوگیا

رقص ہی ایسا تھا ہر اک دائرہ کم پڑ گیا

ان کہی باتوں سے ہی دل کے جہاں آباد ہیں

ورنہ اکثر آدمی نے جو کہا کم پڑ گیا

Monday, 12 August 2024

جنگ کو کھیل سمجھتا ہے عدو

 کھیل


جنگ کو کھیل سمجھتا ہے عدو

خندقیں کھود کے بیٹھا ہوں

میں اپنے دل میں

سر کا کیا تھا؟

اُسے سجدے میں چھپا آیا ہوں

میری قسمت کہ میں ہاتھوں کو دعا کہتا ہوں

Wednesday, 7 August 2024

خودکلامی رات ہے اور بہت کالی ہے

 خودکلامی


رات ہے اور بہت کالی ہے

سانس لینے میں بھی

احساسِ زیاں ہے شامل

سینہ کوبی کے لیے ہاتھ نہیں ہیں جیسے

دل کی دھڑکن

کسی ماتم کی طرح لگتی ہے

Monday, 5 August 2024

کتاب دل اگر پڑھتا نہیں ہے

 کتابِ دل اگر پڑھتا نہیں ہے

تو پھر سُقراط بھی دانا نہیں ہے

کتابِ عشق میں سائے کا مطلب

در و دیوار کا سایہ نہیں ہے

کہاں سے ہو کوئی مجنوں فراہم

ہمارے شہر میں صحرا نہیں ہے