حسن ایسا تھا کہ ہر اک آئینہ کم پڑ گیا
آئینہ کیا عمر بھر کا دیکھنا کم پڑ گیا
آنکھ سے کیا میں تو اپنے دل سے باہر ہوگیا
رقص ہی ایسا تھا ہر اک دائرہ کم پڑ گیا
ان کہی باتوں سے ہی دل کے جہاں آباد ہیں
ورنہ اکثر آدمی نے جو کہا کم پڑ گیا
حسن ایسا تھا کہ ہر اک آئینہ کم پڑ گیا
آئینہ کیا عمر بھر کا دیکھنا کم پڑ گیا
آنکھ سے کیا میں تو اپنے دل سے باہر ہوگیا
رقص ہی ایسا تھا ہر اک دائرہ کم پڑ گیا
ان کہی باتوں سے ہی دل کے جہاں آباد ہیں
ورنہ اکثر آدمی نے جو کہا کم پڑ گیا
کھیل
جنگ کو کھیل سمجھتا ہے عدو
خندقیں کھود کے بیٹھا ہوں
میں اپنے دل میں
سر کا کیا تھا؟
اُسے سجدے میں چھپا آیا ہوں
میری قسمت کہ میں ہاتھوں کو دعا کہتا ہوں
خودکلامی
رات ہے اور بہت کالی ہے
سانس لینے میں بھی
احساسِ زیاں ہے شامل
سینہ کوبی کے لیے ہاتھ نہیں ہیں جیسے
دل کی دھڑکن
کسی ماتم کی طرح لگتی ہے
کتابِ دل اگر پڑھتا نہیں ہے
تو پھر سُقراط بھی دانا نہیں ہے
کتابِ عشق میں سائے کا مطلب
در و دیوار کا سایہ نہیں ہے
کہاں سے ہو کوئی مجنوں فراہم
ہمارے شہر میں صحرا نہیں ہے