Showing posts with label ندیم ملک. Show all posts
Showing posts with label ندیم ملک. Show all posts

Monday, 27 November 2023

سیرت شہ مدینہ کی عنوان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سیرت شہِﷺ مدینہ کی عنوانِ نعت ہے

اس سے ہی کائنات میں فیضانِ نعت ہے

عاشق رسولِ پاکﷺ کا حسانِ نعت ہے

دشمن رسولِ پاکﷺ کا نادانِ نعت ہے

جِن و بشر، ملائکہ،غُلمان و حُور کے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"

Friday, 18 March 2022

قلب حیراں کا خلاصہ تری تصویر میں گم

 قلبِ حیراں کا خلاصہ تِری تصویر میں گم

اس لیے ہو گا وہ تنہا تری تصویر میں گم

میں مداوہ تِرا اے دوست! نہیں کر سکتا

عشرتِ جام نے لکھا تِری تصویر میں گم

مجھ کو تنہائیاں اب راس نہیں آئیں گی

"چشمِ تر چشمِ تمنا تِری تصویر میں گم"

Tuesday, 8 February 2022

موج فراق آئے گی اک امتحاں کے ساتھ

 موجِ فراق آئے گی اک امتحاں کے ساتھ

حرفِ دعا قبول ہوئی آسماں کے ساتھ

صد حیف اس کی آنکھ میں تصویر بن گئی

جس کو پکارا جانا تھا ہفت آسماں کے ساتھ

دہشت جنونِ شوق محبت فریب کو

لایا ہوں کھینچ تان کے کارِ فغاں کے ساتھ

Monday, 8 March 2021

موج صبا کو گیت سنانے کا وقت ہے

 موجِ صبا کو گیت سنانے کا وقت ہے

اے دوست روشنی کو بلانے کا وقت ہے

یہ وقت اپنا آپ چھپانے کا وقت ہے

یعنی گُل و بہار بھلانے کا وقت ہے

حاکم درودِ پاک سنانے کا وقت ہے

محشر بپا ہے آپ کے آنے کا وقت ہے

Wednesday, 6 January 2021

تجھے اپنے گھر کی پڑی ہوئی مجھے دوستوں کی خبر نہیں

 تجھے اپنے گھر کی پڑی ہوئی مجھے دوستوں کی خبر نہیں

تجھے آشناؤں کا پاس ہے، مجھے رہبروں کی خبر نہیں

مجھے خواب میں دے تسلیاں، یا ہوا کے ہاتھ پیام دے

مجھے آج بھی میرے رہنما تِرے راستوں کی خبر نہیں

مجھے ہے خبر تو فراق کی مجھے رنج ہے تو جدائی کا

وہ جو جلوہ گر تھا خیال میں انہیں سلسلوں کی خبر نہیں

Monday, 4 January 2021

خون جما تھا اوزاروں پر مٹی تھی گلدستوں پر

 خون جما تھا اوزاروں پر مٹی تھی گل دستوں پر

میں نے دیکھا رات کا سایا ٹوٹے پھوٹے حرفوں پر

کوئی تو تھا جو دیکھ رہا تھا رات گئے تک کھڑکی سے

کوئی تو تھا جو چیخ رہا تھا رات گئے تک شیشوں پر

جانے کیوں اس آنکھ نے مجھ کو حشر دکھایا اور میں نے

بِن پٹڑی کے ریل چلا دی اپنی کچی غزلوں پر

Wednesday, 23 December 2020

سخن وری کے کسی بھنور میں نہ تو رہے گی نہ میں رہوں گا

 سخنوری کے کسی بھنور میں نہ تُو رہے گی نہ میں رہوں گا

حقیقتوں کے مہاں سفر میں نہ تُو رہے گی نہ میں رہوں گا

وہ ریل گاڑی، وہ پٹڑیوں کی صدائیں مجھ کو بتا رہی ہیں

کہ اب بچھرنے کے بعد گھر میں نہ تُو رہے گی نہ میں رہوں گا

لگے گی آواز تو محبت کے سب دریچے کھلے ملیں گے

مگر یہ غم ہے کہ اب نظر میں نہ تُو رہے گی نہ میں رہوں گا

Tuesday, 22 December 2020

بکھرے پڑے ہوئے ہیں جو لمحے ادھر ادھر

 بکھرے پڑے ہوئے ہیں جو لمحے اِدھر اُدھر

تسبیحِ وقت کے ہیں یہ دانے ادھر ادھر

شاید ہمارا عکس نہیں ہے وجود میں

ہیں اس لیے وجود کے حصے ادھر ادھر

واللہ! تیری آنکھ میں حیرت کو دیکھ کر

پھیلے ہوئے ہیں چار سُو شیشے ادھر ادھر

دیکھیے حسن عادتاً ہی سہی

 دیکھیے حسن عادتاً ہی سہی

آئینے میں رِوایتاً ہی سہی

آنکھ کے آبشار میں کب تک

میں  رہوں دوست نفرتاً ہی سہی

دوش سارا ہے تیری آنکھوں کا

قتل کرتی ہے جدتاً ہی سہی

Saturday, 12 December 2020

باتوں باتوں میں یہاں رات بھی ہو سکتی ہے

 باتوں باتوں میں یہاں رات بھی ہو سکتی ہے

رقص کرتے ہوئے برسات بھی ہو سکتی ہے

یہ الگ بات کہ ہم ایک نہیں ہو سکتے

یہ الگ بات الگ بات ہی ہو سکتی ہے

اے مرے وعدہ فراموش تجھے دھیان رہے

بعد مرنے کے ملاقات بھی ہو سکتی ہے

Wednesday, 9 December 2020

جب گئے ہم کبھی سرکار ترے کوچے میں

 جب گئے ہم کبھی سرکار تِرے کُوچے میں

ہو گئے سارے گنہ گار ترے کوچے میں

مر گئے دیکھ کے دو چار ترے کوچے میں

لگ گیا حسن کا دربار ترے کوچے میں

جو بھی جاتا ہے وہاں دیکھنے تصویر تری

وہ ہی بن جاتا ہے دیوار ترے کوچے میں

Tuesday, 8 December 2020

کیسی پھر چھان بین کی صورت

 کیسی پھر چھان بِین کی صورت

جب گماں ہو یقین کی صورت

🪔ہے ہمیشہ سے زندگی کا دِیا

آندھیوں میں مکین کی صورت

کارگاہِ جہان میں ہم لوگ

ہو گئے ہیں مشین کی صورت

Sunday, 6 December 2020

درد کے بادباں میں رہتا ہوں

 درد کے بادباں میں رہتا ہوں

یعنی میں سائباں میں رہتا ہوں

اب مجھے خوف ہی نہیں کوئی

اب میں اپنے جہاں میں رہتا ہوں

ہاتھ پامال ہو گئے میرے

جانے کس کے گماں میں رہتا ہوں

مجھے بھلا دو جناب سارے

 مجھے بھلا دو جناب سارے

وہ چاہتوں کے نصاب سارے

تمہاری خاطر ہیں جتنے جھیلے

بھلا دوں کیسے عذاب سارے

اِدھر اُدھر کی مسافتوں میں

چھپے ہوئے ہیں جناب سارے

Friday, 27 November 2020

آنکھ یہ دونوں کی رنگیلی ہو جاتی ہے

 دیکھ کے شیشہ جب نوکیلی ہو جاتی ہے

آنکھ یہ دونوں کی رنگیلی ہو جاتی ہے

ہم اشکوں سے باتیں کرتے رہتے ہیں اور

تصویروں کی رنگت پیلی ہو جاتی ہے

اکثر سارے موسم مجھ کو بھا جاتے ہیں

اکثر سوچ کے حالت گیلی ہو جاتی ہے