عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سیرت شہِﷺ مدینہ کی عنوانِ نعت ہے
اس سے ہی کائنات میں فیضانِ نعت ہے
عاشق رسولِ پاکﷺ کا حسانِ نعت ہے
دشمن رسولِ پاکﷺ کا نادانِ نعت ہے
جِن و بشر، ملائکہ،غُلمان و حُور کے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سیرت شہِﷺ مدینہ کی عنوانِ نعت ہے
اس سے ہی کائنات میں فیضانِ نعت ہے
عاشق رسولِ پاکﷺ کا حسانِ نعت ہے
دشمن رسولِ پاکﷺ کا نادانِ نعت ہے
جِن و بشر، ملائکہ،غُلمان و حُور کے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
قلبِ حیراں کا خلاصہ تِری تصویر میں گم
اس لیے ہو گا وہ تنہا تری تصویر میں گم
میں مداوہ تِرا اے دوست! نہیں کر سکتا
عشرتِ جام نے لکھا تِری تصویر میں گم
مجھ کو تنہائیاں اب راس نہیں آئیں گی
"چشمِ تر چشمِ تمنا تِری تصویر میں گم"
موجِ فراق آئے گی اک امتحاں کے ساتھ
حرفِ دعا قبول ہوئی آسماں کے ساتھ
صد حیف اس کی آنکھ میں تصویر بن گئی
جس کو پکارا جانا تھا ہفت آسماں کے ساتھ
دہشت جنونِ شوق محبت فریب کو
لایا ہوں کھینچ تان کے کارِ فغاں کے ساتھ
موجِ صبا کو گیت سنانے کا وقت ہے
اے دوست روشنی کو بلانے کا وقت ہے
یہ وقت اپنا آپ چھپانے کا وقت ہے
یعنی گُل و بہار بھلانے کا وقت ہے
حاکم درودِ پاک سنانے کا وقت ہے
محشر بپا ہے آپ کے آنے کا وقت ہے
تجھے اپنے گھر کی پڑی ہوئی مجھے دوستوں کی خبر نہیں
تجھے آشناؤں کا پاس ہے، مجھے رہبروں کی خبر نہیں
مجھے خواب میں دے تسلیاں، یا ہوا کے ہاتھ پیام دے
مجھے آج بھی میرے رہنما تِرے راستوں کی خبر نہیں
مجھے ہے خبر تو فراق کی مجھے رنج ہے تو جدائی کا
وہ جو جلوہ گر تھا خیال میں انہیں سلسلوں کی خبر نہیں
خون جما تھا اوزاروں پر مٹی تھی گل دستوں پر
میں نے دیکھا رات کا سایا ٹوٹے پھوٹے حرفوں پر
کوئی تو تھا جو دیکھ رہا تھا رات گئے تک کھڑکی سے
کوئی تو تھا جو چیخ رہا تھا رات گئے تک شیشوں پر
جانے کیوں اس آنکھ نے مجھ کو حشر دکھایا اور میں نے
بِن پٹڑی کے ریل چلا دی اپنی کچی غزلوں پر
سخنوری کے کسی بھنور میں نہ تُو رہے گی نہ میں رہوں گا
حقیقتوں کے مہاں سفر میں نہ تُو رہے گی نہ میں رہوں گا
وہ ریل گاڑی، وہ پٹڑیوں کی صدائیں مجھ کو بتا رہی ہیں
کہ اب بچھرنے کے بعد گھر میں نہ تُو رہے گی نہ میں رہوں گا
لگے گی آواز تو محبت کے سب دریچے کھلے ملیں گے
مگر یہ غم ہے کہ اب نظر میں نہ تُو رہے گی نہ میں رہوں گا
بکھرے پڑے ہوئے ہیں جو لمحے اِدھر اُدھر
تسبیحِ وقت کے ہیں یہ دانے ادھر ادھر
شاید ہمارا عکس نہیں ہے وجود میں
ہیں اس لیے وجود کے حصے ادھر ادھر
واللہ! تیری آنکھ میں حیرت کو دیکھ کر
پھیلے ہوئے ہیں چار سُو شیشے ادھر ادھر
دیکھیے حسن عادتاً ہی سہی
آئینے میں رِوایتاً ہی سہی
آنکھ کے آبشار میں کب تک
میں رہوں دوست نفرتاً ہی سہی
دوش سارا ہے تیری آنکھوں کا
قتل کرتی ہے جدتاً ہی سہی
باتوں باتوں میں یہاں رات بھی ہو سکتی ہے
رقص کرتے ہوئے برسات بھی ہو سکتی ہے
یہ الگ بات کہ ہم ایک نہیں ہو سکتے
یہ الگ بات الگ بات ہی ہو سکتی ہے
اے مرے وعدہ فراموش تجھے دھیان رہے
بعد مرنے کے ملاقات بھی ہو سکتی ہے
جب گئے ہم کبھی سرکار تِرے کُوچے میں
ہو گئے سارے گنہ گار ترے کوچے میں
مر گئے دیکھ کے دو چار ترے کوچے میں
لگ گیا حسن کا دربار ترے کوچے میں
جو بھی جاتا ہے وہاں دیکھنے تصویر تری
وہ ہی بن جاتا ہے دیوار ترے کوچے میں
کیسی پھر چھان بِین کی صورت
جب گماں ہو یقین کی صورت
🪔ہے ہمیشہ سے زندگی کا دِیا
آندھیوں میں مکین کی صورت
کارگاہِ جہان میں ہم لوگ
ہو گئے ہیں مشین کی صورت
درد کے بادباں میں رہتا ہوں
یعنی میں سائباں میں رہتا ہوں
اب مجھے خوف ہی نہیں کوئی
اب میں اپنے جہاں میں رہتا ہوں
ہاتھ پامال ہو گئے میرے
جانے کس کے گماں میں رہتا ہوں
مجھے بھلا دو جناب سارے
وہ چاہتوں کے نصاب سارے
تمہاری خاطر ہیں جتنے جھیلے
بھلا دوں کیسے عذاب سارے
اِدھر اُدھر کی مسافتوں میں
چھپے ہوئے ہیں جناب سارے
دیکھ کے شیشہ جب نوکیلی ہو جاتی ہے
آنکھ یہ دونوں کی رنگیلی ہو جاتی ہے
ہم اشکوں سے باتیں کرتے رہتے ہیں اور
تصویروں کی رنگت پیلی ہو جاتی ہے
اکثر سارے موسم مجھ کو بھا جاتے ہیں
اکثر سوچ کے حالت گیلی ہو جاتی ہے