مجھے بھلا دو جناب سارے
وہ چاہتوں کے نصاب سارے
تمہاری خاطر ہیں جتنے جھیلے
بھلا دوں کیسے عذاب سارے
اِدھر اُدھر کی مسافتوں میں
چھپے ہوئے ہیں جناب سارے
تمہاری تصویر دیکھتے ہی
وہ چھپ رہے ہیں گلاب سارے
ہیں دل شکستہ سبھی یہاں پر
جناب سارے نواب سارے
ندیم فرقت میں جل رہے ہیں
گلاب سارے، گلاب سارے
ندیم ملک
No comments:
Post a Comment