سائل بھی ہیں اس دور میں کاسے بھی بہت ہیں
مل جائیں تو اب جُھوٹے دلاسے بھی بہت ہیں
اللہ! یہ گھبرا کے کہیں زہر نہ پی لیں
کچھ لوگ مِرے شہر میں پیاسے بھی بہت ہیں
میں دیکھ رہا ہوں جو چراغوں کے نئے زخم
شکوے نئے موسم کی ہوا سے بھی بہت ہیں
سائل بھی ہیں اس دور میں کاسے بھی بہت ہیں
مل جائیں تو اب جُھوٹے دلاسے بھی بہت ہیں
اللہ! یہ گھبرا کے کہیں زہر نہ پی لیں
کچھ لوگ مِرے شہر میں پیاسے بھی بہت ہیں
میں دیکھ رہا ہوں جو چراغوں کے نئے زخم
شکوے نئے موسم کی ہوا سے بھی بہت ہیں
کہوں کس طرح کیا غضب بولتے ہیں
برستے ہیں شعلے وہ جب بولتے ہیں
اگر وقت آیا تو سب چپ رہیں گے
ابھی لاکھ بڑھ چڑھ کے سب بولتے ہیں
وہی ان سے ہم بول اٹھیں تو کیا ہو
کہ جو ہم سے وہ روز و شب بولتے ہیں
اللہ رحم اب تو یہ حالات ہو گئے
بچے کسی غریب کے بھوکے ہی سو گئے
پھولوں کی آرزو تھی مگر یہ بھی کم نہیں
احباب میری راہ میں کانٹے تو بو گئے
کہنے کا شوق ہے تو ہو سننے کا عزم بھی
یہ کیا کہ آہ باتوں ہی باتوں میں رو گئے
اکتارے والا بنجارا
رخصت
اے ہوائے یخ بستہ
پھاگن کی ہوا گاتی ہوئی
پر کھول کے جاگی انگڑائی
باغوں میں آم کی شاخوں پر
پھر من للچاتے بور لگے
ہیں اپنے آشناؤں میں بھی اجنبی سے ہم
رکھتے بھی تھے امید یہی مفلسی سے ہم
اس درجہ بد حواس ہیں اب تشنگی سے ہم
ہو زہر بھی نصیب تو پی لیں خوشی سے ہم
تائید اہلِ ظلم کی اک شکل یہ بھی ہے
ہر ظلم سہ رہے ہیں بڑی خامشی سے ہم