Showing posts with label انور شمیم. Show all posts
Showing posts with label انور شمیم. Show all posts

Thursday, 8 January 2026

سائل بھی ہیں اس دور میں کاسے بھی بہت ہیں

 سائل بھی ہیں اس دور میں کاسے بھی بہت ہیں

مل جائیں تو اب جُھوٹے دلاسے بھی بہت ہیں

اللہ! یہ گھبرا کے کہیں زہر نہ پی لیں

کچھ لوگ مِرے شہر میں پیاسے بھی بہت ہیں

میں دیکھ رہا ہوں جو چراغوں کے نئے زخم

شکوے نئے موسم کی ہوا سے بھی بہت ہیں

Friday, 21 February 2025

کہوں کس طرح کیا غضب بولتے ہیں

 کہوں کس طرح کیا غضب بولتے ہیں

برستے ہیں شعلے وہ جب بولتے ہیں

اگر وقت آیا تو سب چپ رہیں گے

ابھی لاکھ بڑھ چڑھ کے سب بولتے ہیں

وہی ان سے ہم بول اٹھیں تو کیا ہو

کہ جو ہم سے وہ روز و شب بولتے ہیں

Saturday, 16 November 2024

اللہ رحم اب تو یہ حالات ہو گئے

 اللہ رحم اب تو یہ حالات ہو گئے

بچے کسی غریب کے بھوکے ہی سو گئے

پھولوں کی آرزو تھی مگر یہ بھی کم نہیں

احباب میری راہ میں کانٹے تو بو گئے

کہنے کا شوق ہے تو ہو سننے کا عزم بھی

یہ کیا کہ آہ باتوں ہی باتوں میں رو گئے

Thursday, 16 June 2022

رخصت اے ہوائے یخ بستہ

اکتارے والا بنجارا


رخصت

اے ہوائے یخ بستہ

پھاگن کی ہوا گاتی ہوئی

پر کھول کے جاگی انگڑائی

باغوں میں آم کی شاخوں پر

پھر من للچاتے بور لگے

Saturday, 27 February 2021

ہیں اپنے آشناؤں میں بھی اجنبی سے ہم

ہیں اپنے آشناؤں میں بھی اجنبی سے ہم

رکھتے بھی تھے امید یہی مفلسی سے ہم

اس درجہ بد حواس ہیں اب تشنگی سے ہم

ہو زہر بھی نصیب تو پی لیں خوشی سے ہم

تائید اہلِ ظلم کی اک شکل یہ بھی ہے

ہر ظلم سہ رہے ہیں بڑی خامشی سے ہم