سائل بھی ہیں اس دور میں کاسے بھی بہت ہیں
مل جائیں تو اب جُھوٹے دلاسے بھی بہت ہیں
اللہ! یہ گھبرا کے کہیں زہر نہ پی لیں
کچھ لوگ مِرے شہر میں پیاسے بھی بہت ہیں
میں دیکھ رہا ہوں جو چراغوں کے نئے زخم
شکوے نئے موسم کی ہوا سے بھی بہت ہیں
مایوس نہیں ہیں تِری رحمت سے خدایا
یہ سُوکھے ہوئے پیڑ جو پیاسے بھی بہت ہیں
شاد آپ کی ہر بات سے انور ہیں بہت شاد
بیزار مگر لفظِ وفا سے بھی بہت ہیں
انور شمیم
No comments:
Post a Comment