Sunday, 25 January 2026

ایک خدا پر تکیہ کر کے بیٹھ گئے ہیں

 ایک خدا پر تکیہ کر کے بیٹھ گئے ہیں

دیکھو ہم بھی کیا کیا کر کے بیٹھ گئے ہیں

پوچھ رہے ہیں لوگ ارے وہ شخص کہاں ہے

جانے کون تماشا کر کے بیٹھ گئے ہیں

اترے تھے میدان میں سب کچھ ٹھیک کریں گے

سب کچھ الٹا سیدھا کر کے بیٹھ گئے ہیں

سارے شجر شادابی سمیٹے اپنی اپنی

دھوپ میں گہرا سایہ کر کے بیٹھ گئے ہیں

لوٹ گئے سب سوچ کے گھر میں کوئی نہیں ہے

اور یہ ہم کہ اندھیرا کر کے بیٹھ گئے ہیں


عبدالحمید

No comments:

Post a Comment