اپنے گھر سے وطن سے وفا کیجیے
امن ہو قریہ قریہ دُعا کیجیے
جس سے مٹنے لگیں نفرتیں چار سُو
کام کوئی تو ایسا نیا کیجیے
پھول کلیاں سبھی مسکراتی رہیں
پیدا ایسی وطن میں فضا کیجیے
درس دیتے ہیں اِنجیل و قرآں یہی
آدمی ہو تو سب کا بھلا کیجیے
چھوڑ کر کوئی جائے نہ اِس دیس کو
کوئی تدبیر ایسی کِیا کیجیے
اب تو جاوید! بس کچھ سُنا کیجیے
کچھ لکھا کیجیے، کچھ کہا کیجیے
جاوید ڈینی ایل
No comments:
Post a Comment