Monday, 19 January 2026

یہ دل کی بات ہے کس نے کہی ہے

 یہ دل کی بات ہے کس نے کہی ہے

محبت خود سراسر آگہی ہے

تمہیں کہہ دو کہ میں بالکل نہ سمجھا

نظر جھینپی ہوئی کچھ کہہ رہی ہے

یہ سر پر سایہ گستر خاک صحرا

جنوں بے تاج کی شاہنشہی ہے

وہ جس نے چھین لی ہے زندگانی

متاع زندگانی بھی وہی ہے

جنون عشق خود منزل ہے کیفی

خرد کی راہ اس میں گمرہی ہے


کیفی چریاکوٹی

No comments:

Post a Comment