بعد تمہارے کوئی ہمدم کیا ہو گا
مرہم کے ماروں کا مرہم کیا ہو گا
ممکن ہے یہ مجھ کو پاگل بھی کر دے
عشق کا غم ہے اس سے تو کم کیا ہو گا
مُفلس کیا ہیں چلتے پھرتے مُردے ہیں
مُردوں کے مرنے کا ماتم کیا ہو گا
ٹھنڈی آہیں، خواب سُلگتے، نم آنکھیں
اس سے بڑھ کر رنگیں موسم کیا ہو گا
دونوں ہی کے اپنے اپنے رستے ہیں
صحرا سے دریا کا سنگم کیا ہو گا
کنچن ڈوبھال
No comments:
Post a Comment