Wednesday, 21 January 2026

بعد تمہارے کوئی ہمدم کیا ہو گا

 بعد تمہارے کوئی ہمدم کیا ہو گا

مرہم کے ماروں کا مرہم کیا ہو گا

ممکن ہے یہ مجھ کو پاگل بھی کر دے

عشق کا غم ہے اس سے تو کم کیا ہو گا

مُفلس کیا ہیں چلتے پھرتے مُردے ہیں

مُردوں کے مرنے کا ماتم کیا ہو گا

ٹھنڈی آہیں، خواب سُلگتے، نم آنکھیں

اس سے بڑھ کر رنگیں موسم کیا ہو گا

دونوں ہی کے اپنے اپنے رستے ہیں

صحرا سے دریا کا سنگم کیا ہو گا


کنچن ڈوبھال

No comments:

Post a Comment